نیویارک: نیویارک سٹی میں منصفانہ معاہدے کے مطالبے پر ہڑتال کرنے والی نرسوں کو منگل کے روز بڑی سیاسی اور سماجی شخصیات کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی منگل کی صبح مین ہیٹن کی ٹینتھ ایونیو پر واقع ماؤنٹ سائنائی ویسٹ میں نرسوں کی پکٹ لائن میں شرکت کریں گے۔ منگل کو نرسوں کی ہڑتال کا نواں دن ہے۔
اس سے قبل پیر کی دوپہر ورکنگ فیملیز پارٹی، نیو یارک امیگریشن کولیشن کے اراکین اور معروف سماجی رہنما ریورنڈ ال شارپٹن نے ماؤنٹ سائنائی مارننگ سائیڈ کے باہر پکٹ لائن پر ایک نیوز کانفرنس کی۔
ریورنڈ ال شارپٹن نے “نو جسٹس، نو پیس!” کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر ڈے کے موقع پر نرسوں کے ساتھ کھڑا ہونا بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا:”مارٹن لوتھر کنگ میمفس میں مزدوروں، خاص طور پر صفائی کے کارکنوں کے حقوق کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے، اور مجھے یقین ہے کہ وہ چاہتے کہ اُن کی روایت پر چلنے والے آج نرسوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔”
شارپٹن نے مزید کہا:“یہ صرف مزدوروں کا مسئلہ نہیں، یہ شہری حقوق کا مسئلہ ہے، یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے!”
نرسز یونین (NYSNA) نے اتوار کو مونٹیفیور کے ساتھ مذاکرات کیے، جبکہ گزشتہ جمعرات اور جمعہ کو نیو یارک–پریسبیٹیرین اور ماؤنٹ سائنائی کے ساتھ بات چیت ہوئی، تاہم آئندہ کسی نئے مذاکرات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔
پیر کے روز مونٹیفیور کے ایک ترجمان نے کہا:“جب تک NYSNA اپنے لاپرواہ اور خطرناک 3.6 بلین ڈالر کے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹتی، مجموعی طور پر پیش رفت ممکن نہیں۔ اس دوران ہم اپنی کمیونٹیز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کرتے رہیں گے۔”
ماؤنٹ سائنائی ہیلتھ کے سی ای او برینڈن کار نے ایک بیان میں کہا:
“آج کی صورتحال میں، ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود، قریبی مستقبل میں کسی معاہدے کا امکان بہت کم ہے۔ ویک اینڈ پر ہماری آپریشنل ٹیموں نے نرسوں کے بغیر ہیلتھ سسٹم چلانے کے منصوبوں کو مزید وسعت دی ہے، جنہیں NYSNA قیادت نے ہڑتال پر آمادہ کیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے یہ صورتحال طویل المدت شکل اختیار کر رہی ہے، بغیر پیشگی اطلاع کے مزید ماؤنٹ سائنائی نرسوں کو شیڈول میں شامل کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔
یہ ہڑتال نیویارک سٹی میں صحت، مزدور حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق ایک اہم بحث کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
