انفلوئنزاکی نئی قسم کاتیزی سےپھیلاؤ: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تنبیہ

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے چھٹیوں کے سیزن میں میل جول بڑھنے کی وجہ سے ان وائرسوں کے پھیلاؤ میں مزید تیزی آ سکتی ہے

Editor News

تحریر: شمائلہ

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں انفلوئنزا اور دیگر سانس کی بیماریاں پھیلانے والے وائرسوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ جنیوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی ماہر ڈاکٹر وین کنگ ژانگ نے بتایا کہ رواں سال AH3N2 وائرس کی ایک نئی قسم (subclade) سامنے آئی ہے جو تیزی سے پھیل رہی ہے۔

وائرس کی نئی قسم: J.2.4.1 یا سب کلیڈ K
اس نئی قسم کو J.2.4.1 یا سب کلیڈ K کا نام دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ژانگ کے مطابق:یہ قسم سب سے پہلے رواں سال اگست میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں دیکھی گئی۔اب تک یہ وائرس 30 سے زائد ممالک میں رپورٹ ہو چکا ہے۔

ماہرین اسے ایک جینیاتی تبدیلی قرار دے رہے ہیں، تاہم اب تک کے ڈیٹا سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ وائرس ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدید بیماری کا باعث بن رہا ہے۔

ڈاکٹر ژانگ نے وضاحت کی کہ انفلوئنزا کے وائرس مسلسل اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں، اسی لیے ان کی ویکسین بھی ہر سال اپ ڈیٹ کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ نئی قسم (J.2.4.1) شمالی نصف کرہ (Northern Hemisphere) کے لیے تیار کردہ حالیہ ویکسین کا حصہ نہیں ہے، لیکن ابتدائی شواہد بتاتے ہیں کہ:

موجودہ ویکسین اب بھی شدید بیماری اور اسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہے۔

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، یہ ویکسین بچوں میں شدید بیماری کے خلاف 75 فیصد اور بالغوں میں 35 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

“ویکسینیشن اب بھی ہمارا سب سے مؤثر دفاع ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہیں بیماری کا زیادہ خطرہ ہے یا جو مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔” ڈاکٹر وین کنگ ژانگ

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے چھٹیوں کے سیزن میں میل جول بڑھنے کی وجہ سے ان وائرسوں کے پھیلاؤ میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ ممالک کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی لیبارٹریوں کی تشخیص اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ کسی بھی نئی وبا کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا امریکہ ڈبلیو ایچ او چھوڑنے کے فیصلے کے باوجود اس نگرانی کے نیٹ ورک کا حصہ رہے گا، ڈاکٹر ژانگ نے کہا کہ عالمی سطح پر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے تمام ممالک کی شرکت ضروری ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اگلی بڑی عالمی وبا (Pandemic) کہاں سے اور کب شروع ہو جائے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *