انفلوئنزاوائرس کی نئی قسم کی تصدیق

اس سال کی فلو ویکسین کم از کم جزوی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

Editor News

ویب ڈیسک: فلو کے موسم کے مزید گہرا ہونے کے ساتھ ہی انفلوئنزا وائرس کی ایک نئی قسم کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) نے تصدیق کی ہے۔

یہ نیا وائرس انفلوئنزا اے کی ایک ذیلی قسم ہے۔ سائنسی طور پر اسے H3N2 سب ٹائپ کی K سب کلاڈ کہا جا رہا ہے، اور حالیہ دنوں میں رپورٹ ہونے والے زیادہ تر H3N2 کیسز اسی قسم سے متعلق ہیں۔ تاریخی طور پر H3N2 نے دیگر اقسام کے مقابلے میں بزرگ افراد میں زیادہ ہسپتال داخلے اور اموات کا سبب بنتے رہے ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ویکسینیشن کے شرح کم رہی تو اس سال کا فلو سیزن خاص طور پر شدید ہو سکتا ہے۔

نئی K قسم کی علامات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق K سب کلاڈ کی علامات دیگر اقسام سے نمایاں طور پر مختلف نہیں، لیکن چونکہ یہ انفلوئنزا اے کی ذیلی قسم ہے، اس لیے اس کی شدت زیادہ ہو سکتی ہے۔

کلیولینڈ کلینک کے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر ڈونلڈ ڈمفورڈ کا کہنا ہے:“انفلوئنزا اے عموماً انفلوئنزا بی کے مقابلے میں زیادہ شدید علامات کا سبب بنتا ہے، اور مریضوں کے اسپتال جانے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔”

CDC کے مطابق فلو کی علامات اکثر اچانک ظاہر ہوتی ہیں، جن میں بخار، کھانسی، گلے میں خراش، ناک بند ہونا، جسم درد، سر درد اور تھکن شامل ہو سکتی ہیں۔ ہر مریض میں تمام علامات ظاہر ہونا ضروری نہیں۔

اگر کسی شخص کو سانس لینے میں دشواری، شدید درد، انتہائی کمزوری محسوس ہو یا علامات بہتر نہ ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چھوٹے بچوں اور بزرگ افراد کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔

کیا اس سال کی فلو ویکسین مؤثر ہے؟
برطانیہ میں ہونے والی ابتدائی تجزیاتی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس سال کی فلو ویکسین کم از کم جزوی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ تاہم مکمل مؤثریت جاننے میں کچھ وقت لگے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کی جانب سے فراہم کردہ کراس پروٹیکشن بھی انفیکشن کی شدت کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، چاہے ویکسین کا وائرس سے مکمل میل نہ بھی بیٹھے۔اصل مسئلہ ویکسین کی کم ہوتی ہوئی شرحیں ہیں۔

یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ماہر ڈاکٹر اینڈریو پیویا کے مطابق، “بچوں میں خاص طور پر ویکسینیشن کی شرح میں کمی تشویشناک ہے۔”

وینڈربلٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ولیم شافنر کا کہنا ہے:
“ہم نہیں کہتے کہ ویکسین مکمل ہے، لیکن یہ آپ کو ہسپتال، آئی سی یو اور قبرستان جانے سے بہتر طور پر بچاتی ہے۔”

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *