نیویارک: نیویارک شہر کے مختلف ہسپتالوں میں کام کرنے والی تقریباً 16,000 نرسوں نے تنخواہوں میں اضافے اور صحت کی سہولیات کے حصول کے لیے ہڑتال پر جانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ نرسوں کی یونین اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد پیر سے کام چھوڑنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
شہر کے سات نجی ہسپتالوں میں ہڑتال کا خطرہ منڈلا رہا ہے،متاثر ہونے والے اہم اسپتاوں میں
مونٹی فیور میڈیکل سینٹر ،
ماؤنٹ سینائی ہسپتال
نیو یارک-پریسبیٹیرین ہسپتال
کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر
بروک لین ہسپتال سینٹر
برونکس کیئر ہیلتھ سسٹم
فلشنگ ہسپتال
واضح رہے کہ آٹھ “سیفٹی نیٹ” ہسپتالوں، جو غریب اور ضرورت مند شہریوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہیں، نے یونین کے ساتھ ابتدائی معاہدے کر لیے ہیں جس سے وہاں صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔
نرسوں کی یونین کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، پینشن پلان میں کٹوتی ختم کی جائے اور کام کی جگہ پر تشدد سے بچاؤ کے لیے بہتر حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔
دوسری جانب، ہسپتال انتظامیہ نے ان مطالبات کو “غیر حقیقی” قرار دیا ہے۔ نیو یارک-پریسبیٹیرین ہسپتال کے مطابق تین سالوں میں 30 فیصد اضافہ ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ مونٹی فیور میڈیکل سینٹر نے یونین کے مطالبات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 3.6 بلین ڈالر کے یہ مطالبات مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
ہسپتالوں نے نرسوں کے بغیر کام چلانے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ماؤنٹ سینائی ہسپتال کے مطابق وہ ہڑتال کی صورت میں باہر سے عارضی نرسیں بلانے اور کلینیکل لیڈروں کے ذریعے طبی امور انجام دینے کی مشقیں کر رہے ہیں تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال میں کوئی خلل نہ آئے۔
یونین کی جانب سے بدھ کو ایک بریفنگ دی جائے گی جس میں مریضوں اور عوام کو مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 2023 میں بھی نیویارک کی نرسوں نے تین روزہ ہڑتال کی تھی۔
