نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے واضح کیا ہے کہ وہ سینٹرل پارک میں چلنے والی گھوڑا گاڑیوں (تانگوں) کے کاروبار کو ختم کرنے کے حامی ہیں، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ سٹی کونسل کی جانب سے پیش کردہ موجودہ بل (Intro 943) اس صنعت سے وابستہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کافی نہیں ہے۔
میئر زہران ممدانی نے اپنے ایک بیان میں کہا:”میں نے اپنی مہم کے دوران اور عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی ہمیشہ یہ کہا ہے کہ ہمیں اس صنعت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ میں اس بل کی روح کی حمایت کرتا ہوں، لیکن میں ملازمین کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے اس میں موجود خامیوں پر تنقید کرتا ہوں۔ میں سٹی کونسل کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کا منتظر ہوں جو نیویارک کے شہریوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔”
“رومانچ لا” (Romanch’s Law – Intro 943) نامی اس مجوزہ بل کا مقصد سینٹرل پارک سے سیاحتی بگھیوں کا مرحلہ وار خاتمہ کرنا ہے۔ اس بل کو مینہیٹن کے بوروج پریذیڈنٹ بریڈ ہولمین-سیگل اور حال ہی میں سٹی کونسل کی اسپیکر جولی مینن کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں جیسے کہ NYCLASS اور سینٹرل پارک کنزروینسی کا موقف ہے کہ پرتشدد اور تیز ٹریفک کے درمیان گھوڑوں کو دوڑانا غیر انسانی فعل ہے۔
رش والی سڑکوں پر گھوڑے اکثر خوفزدہ ہو جاتے ہیں جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
حال ہی میں متعدد گھوڑوں کی ہلاکتیں اور 18 سالہ سیاح رومانچ مہاجن کی ایک بگھی حادثے میں موت (جو اس صنعت کی 150 سالہ تاریخ میں پہلی موت ہے) اس پابندی کی بڑی وجہ بنی ہے۔
دوسری جانب تانگہ مالکان اور ڈرائیوروں کی نمائندگی کرنے والی یونین (TWU Local 100) نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
بل میں ملازمین کو متبادل روزگار فراہم کرنے کا ذکر صرف دو مبہم جملوں پر مشتمل ہے جو ناکافی ہے۔60 سے زائد مالکان نے لاکھوں ڈالر قرض لے کر بگھی کے میڈیلینز (لائسنس) خرید رکھے ہیں۔
صنعت کے خاتمے سے نہ صرف سینکڑوں افراد بے روزگار ہوں گے بلکہ ان 150 سے زائد گھوڑوں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا جن کی ماہانہ دیکھ بھال کا خرچہ ایک لاکھ ڈالر سے زائد ہے، اور فنڈز نہ ہونے کی صورت میں انہیں ذبح کیے جانے کا خطرہ ہے۔
تانگہ مالکان کا کہنا ہے کہ حادثات سے بچنے کے لیے پابندی کے بجائے بہتر ریگولیشنز اور پارک میں جگہ جگہ گھوڑے باندھنے کے لیے ہک (Hitching posts) نصب کیے جانے چاہئیں۔





