واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی ایوانِ نمائندگان (House) نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ ایک اہم قانون سازی منظور کر لی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (Daylight Saving Time – DST) کو مستقل کر دیا جائے گا۔ اس قانون کے لاگو ہونے سے سال میں دو بار گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کا روایتی سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
‘سن شائن پروٹیکشن ایکٹ 2025’ کے نام سے پیش کیے گئے اس بل کے حق میں 308 جبکہ مخالفت میں 117 ووٹ آئے۔ بل کی مخالفت کرنے والوں میں 22 ریپبلکنز اور 95 ڈیموکریٹس شامل تھے۔ ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد اب یہ بل حتمی منظوری کے لیے سینیٹ میں بھیجا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس قانون سازی کی بھرپور حمایت کی ہے۔ اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا: “یہ بل انتہائی اہم ہے کیونکہ گھڑیوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہونے کی وجہ سے لوگوں، شہروں اور ریاستوں کے ہر سال کروڑوں ڈالر ضائع ہو جاتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ایکٹ پر دستخط کر کے اسے قانون بنانے کے لیے سخت محنت کریں گے تاکہ عوام اس ‘مضحکہ خیز’ دو سالہ مشقت اور پریشانی سے نجات پا سکیں۔
یہ بل فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن نمائندے ورن بکانن (Vern Buchanan) نے متعارف کرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سال میں دو بار وقت کی تبدیلی سے امریکی عوام اب تھک چکے ہیں۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کرنے سے عوامی صحت میں بہتری آئے گی، ٹریفک حادثات اور جرائم کی شرح میں کمی ہوگی، جبکہ شام کے وقت اضافی روشنی ملنے سے آؤٹ ڈور سرگرمیوں اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔ ڈیموکریٹ رہنما فرینک پیلون جونیئر نے بھی اس بل کی حمایت کی ہے۔
اگرچہ امریکی سینیٹ نے 2022 میں ایسا ہی ایک بل متفقہ طور پر منظور کیا تھا جو بعد میں ایوانِ نمائندگان میں رک گیا تھا، تاہم اس بار سینیٹ میں اسے کچھ مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن (Tom Cotton) نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون سے سردیوں میں طلوعِ آفتاب کا وقت بہت تاخیر سے ہوگا، جس کے باعث بچوں کو گھپ اندھیرے میں اسکول جانا پڑے گا یا پھر اسکولوں کے اوقات تبدیل کرنا پڑیں گے۔





