واشنگٹن / نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک میں فلسطین کے حق میں مظاہروں کی قیادت کرنے والے سرگرم کارکن محمود خلیل کو دوبارہ حراست میں لے کر شمالی افریقہ کے ملک الجزائر ملک بدر کر دیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے ایک وفاقی اپیل کورٹ نے محمود خلیل کی رہائی کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جسے ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈی ایچ ایس کی اسسٹنٹ سیکرٹری ٹریشیا میک لولن نے ایک انٹرویو میں کہا، “ایسا لگتا ہے کہ وہ الجزائر جائیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے جو ویزا یا گرین کارڈ پر یہاں مقیم ہیں کہ آپ اس ملک میں مہمان ہیں، لہٰذا مہمانوں جیسا ہی برتاؤ کریں۔”
حکام کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ میں رہنا یا تعلیم حاصل کرنا ایک رعایت (Privilege) ہے، کوئی موروثی حق نہیں۔
محمود خلیل کون ہیں؟
شامی نژاد فلسطینی کارکن محمود خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے سابق گریجویٹ طالب علم ہیں اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی حامی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا پہلا بڑا نشانہ بنے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ خلیل دہشت گرد تنظیم حماس کی حمایت کرتے ہیں اور انہوں نے گرین کارڈ کی درخواست میں غلط بیانی سے کام لیا۔
محمود خلیل نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور خود کو انسانی حقوق اور آزادی کا علمبردار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “میں ایک پناہ گزین، باپ اور شوہر ہوں، اور سب سے بڑھ کر میں ایک فلسطینی ہوں۔”
محمود خلیل کی قانونی ٹیم گزشتہ کئی ماہ سے اس ملک بدری کو چیلنج کر رہی ہے۔ خلیل نے حکومت کے خلاف 20 ملین ڈالر کا ہرجانہ بھی دائر کیا ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر قید کیا گیا۔
یہ معاملہ اب امریکی امیگریشن پالیسی اور آزادیِ اظہار کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کر چکا ہے، جہاں ایک طرف حکومتی سختی ہے تو دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے آئینی حقوق پر حملہ قرار دے رہی ہیں۔
