واشنگٹن ڈی سی : امریکی ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر برنی مورینو نے ملک میں دوہری شہریت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک نیا بل لانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد امریکی شہریوں سے ملک کے ساتھ “خصوصی وفاداری” (Exclusive Allegiance) کا تقاضا کرنا ہے۔
اس قانون سازی کو ‘خصوصی شہریت ایکٹ 2025’ (Exclusive Citizenship Act of 2025) کا نام دیا گیا ہے۔
اس بل کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے موجودہ امریکی شہریوں کو دو ممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا اور ملک کو امریکی مفادات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔
سینیٹر مورینو نے کہا، “امریکی شہری ہونا ایک اعزاز اور حق ہے، اور اگر آپ امریکی بننا چاہتے ہیں، تو یہ ‘یا تو سب کچھ یا کچھ نہیں’ کے اصول پر مبنی ہونا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دوہری شہریت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔”
موجودہ دوہری شہریت رکھنے والے امریکی شہریوں کو یہ قانون نافذ ہونے کے ایک سال کے اندر اندر فیصلہ کرنا ہو گا۔یا تو وہ سیکرٹری آف اسٹیٹ کو خط لکھ کر اپنی غیر ملکی شہریت ترک کر دیں گے۔یا پھر وہ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کو مطلع کریں گے کہ وہ اپنی امریکی شہریت ترک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اگر کوئی شخص ایک سال کی مدت کے اندر اس تبدیلی پر عمل نہیں کرتا، تو اسے خود بخود اپنی امریکی شہریت سے دستبردار سمجھا جائے گا۔
اگر کوئی امریکی شہری مستقبل میں کسی غیر ملکی شہریت کے حصول کی کوشش کرتا ہے، تو وہ بھی مؤثر طریقے سے اپنی امریکی شہریت کھو دے گا۔
اس قانون کے نفاذ اور اس پر نظر رکھنے کے لیے، محکمہ خارجہ (State Department) اور ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کو خصوصی ڈیٹا بیس اور قوانین بنانے کی ضرورت ہو گی۔
وہ افراد جو اپنی امریکی شہریت رضاکارانہ یا غیر رضاکارانہ طور پر ترک کریں گے، انہیں امیگریشن قوانین کے مقاصد کے لیے اجنبی (alien) تصور کیا جائے گا اور وفاقی نظام میں اسی طرح ریکارڈ کیا جائے گا۔
موجودہ امریکی قانون امریکی شہریوں کو ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی شہریت رکھنے کی اجازت دیتا ہے اور وفاداری کے انتخاب کی شرط نہیں رکھتا۔
مورینو کا یہ بل ملک میں امیگریشن پر سخت کنٹرول کے لیے ریپبلکنز کے وسیع تر نقطہ نظر کا حصہ ہے، جو یہ دلیل دیتے ہیں کہ دوہری شہریت “مفادات کے تصادم اور منقسم وفاداریوں” (conflicts of interest and divided loyalties) کو جنم دیتی ہے۔
ماضی میں بھی قانون سازوں کی جانب سے دوہری شہریت کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں، جن میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ کانگریس کے اراکین کے لیے دوہری شہریت کا انکشاف لازمی قرار دیا جائے یا دوہری شہریت رکھنے والوں کو کانگریس میں خدمات انجام دینے سے روکا جائے۔
