برازیلیا / ریؤ ڈی جینیریو: برازیل میں صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ سنسنی خیز مقابلے کے بعد مکمل ہو گیا ہے، تاہم حتمی نتیجے کے عدم حصول کی وجہ سے مقابلہ اب دوسرے مرحلے (Runoff) میں داخل ہو گیا ہے۔
انتہائی دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو (Flávio Bolsonaro) نے موجودہ صدر لوئس اناسیو لولا دا سلوا (Lula da Silva) کے مقابلے میں واضح برتری حاصل کی، تاہم وہ پہلے مرحلے میں ہی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
رپورٹس کے مطابق 99.9 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد سابق صدر جائر بولسونارو کے 45 سالہ بیٹے فلاویو بولسونارو نے 47 فیصد (5 کروڑ 61 لاکھ) ووٹ حاصل کیے، جبکہ 80 سالہ صدر لولا دا سلوا 45.1 فیصد (5 کروڑ 38 لاکھ) ووٹ حاصل کر سکے۔ اب دونوں امیدواروں کے درمیان 25 اکتوبر کو فیصلہ کن مقابلہ ہوگا۔
دارالحکومت برازیلیا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے فلاویو بولسونارو نے کہا کہ یہ نتائج لولا دا سلوا کی ورکرز پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ ہیں۔ انہوں نے کہا، “لولا نے سات صدارتی انتخابات لڑے، وہ صرف اقتدار کے لیے فکر مند ہیں جبکہ مجھے برازیل کے مستقبل کی فکر ہے۔”
سانپاؤلو میں خطاب کرتے ہوئے صدر لولا دا سلوا نے شکست کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “ہمیں امید تھی کہ ہم پہلے مرحلے میں ہی جیت جائیں گے، لیکن جمہوریت کا فیصلہ یہی ہے۔ اب ہم دوسرے مرحلے کی مہم شروع کریں گے جہاں دو امیدواروں کے درمیان واضح فرق عوام کے سامنے آئے گا۔”
دائیں بازو کی جماعتوں نے نہ صرف صدارتی بلکہ پارلیمانی اور گورنر شپ کی نشستوں پر بھی زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ سینیٹ کی 54 میں سے 34 نشستوں پر دائیں بازو کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ جائر بولسونارو کی بیوی مشیل بولسونارو اور ان کے بیٹے کارلوس بولسونارو بھی سینیٹ کے رکن منتخب ہو گئے ہیں۔
ان انتخابات میں امریکی خارجہ پالیسی اور ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار بھی اہم موضوع رہا۔ لولا دا سلوا نے الزام لگایا کہ ٹرمپ برازیل کے قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بولسونارو کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ فلاویو بولسونارو نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔





