لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

نیویارک ہاؤسنگ کورٹ کابڑافیصلہ: غفلت برتنے والےمالک مکانات کےخلاف کیسزتیزترین نمٹانےکا فاسٹ ٹریک نظام قائم

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: نیویارک شہر کے میئر زوہران مامدانی اور نیویارک سٹی سول کورٹ کے انتظامی جج نے ہاؤسنگ کورٹ کے سب سے اہم اور شدید نوعیت کے کیسز کی فوری سماعت کے لیے ایک نیا “فاسٹ ٹریک” (Fast Track) نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد غیر ذمہ دار اور غفلت کے مرتکب مالک مکانات (Landlords) کا محاسبہ کرنا اور متاثرہ کرایہ داروں کو بلا تاخیر انصاف فراہم کرنا ہے۔

یہ فاسٹ ٹریک ان کیسز پر لاگو ہوگا جہاں پوری عمارت یا ایک تہائی اپارٹمنٹس کے لیے خالی کرنے کے احکامات (Vacate Orders) ہوں، بجلی، پانی یا گیس جیسی بنیادی سہولیات کی شدید معطلی ہو، یا تمام لفٹس (Elevators) بند ہوں۔

ان مخصوص زمروں کے تحت کیس داخل ہوتے ہی اسی دن جج مقرر کیا جائے گا اور قانونی نوٹس کی تعمیل کے بعد فریقین کو زیادہ سے زیادہ 5 دن کے اندر عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔

انتہائی خراب عمارتوں میں مالک مکان کی غفلت پر تھرڈ پارٹی بلڈنگ مینجمنٹ کی تعیناتی کی کارروائی کو بھی تیز تر بنایا جائے گا۔

کرایہ داروں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے مامدانی انتظامیہ مالی سال 2027 میں 14.3 ملین ڈالر اور اس کے بعد سالانہ 40 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

‘بلاک بائی بلاک’ منصوبے اور میئر کے پہلے بجٹ کے تحت اگلے 5 سالوں میں سستے اور محفوظ مکانات کی فراہمی کے لیے 22 بلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

میئر مامدانی کا کہنا تھا کہ نیویارک کے شہریوں کو جب ہنگامی اور خطرناک صورتحال کا سامنا ہو تو انہیں انصاف اور مرمتی کاموں کے لیے مہینوں یا سالوں انتظار نہیں کرنا چاہیے، اور یہ فاسٹ ٹریک عدالتوں میں بھی وہی تیزی لائے گا جس کی ضرورت ہے۔