لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکامتنازع ترین بیان: “برطانیہ ایٹمی ہتھیاررکھنےوالی پہلی اسلامی جمہوریہ بن سکتاہے”

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

یروشلم / لندن (ویب ڈیسک): اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ایک نئے اور شدید متنازع بیان نے عالمی سفارتی حلقوں اور خود اسرائیل کے اندر ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کو دیے گئے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ دنیا کی پہلی ایسی “اسلامی جمہوریہ” بن سکتا ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔

ماضی اور موجودہ برطانیہ کا موازنہ کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ آج کا برطانیہ اب اسرائیل نواز ملک نہیں رہا بلکہ وہ “اسلامی جمہوریہ برطانیہ” بن چکا ہے۔ جب انٹرویو نگار صحافی نے سوال کیا کہ یورپ کے دیگر ممالک کا رویہ بھی اسرائیل کے لیے بدلا ہے تو آپ صرف برطانیہ کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ اس پر صیہونی وزیراعظم نے اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے دہرایا کہ “کسی نے کہا تھا کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ، اسلامی جمہوریہ برطانیہ ہوگی۔”

سیاسی اور سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا میں پہلی باضابطہ اور آئینی “اسلامی جمہوریہ” ہونے اور ایٹمی طاقت رکھنے کا اعزاز پاکستان کے پاس ہے، جو اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم اور مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ نیتن یاہو کے اس بیان کو پاکستان کی ایٹمی شناخت پر بھی بالواسطہ تنقید قرار دیا جا رہا ہے۔

نیتن یاہو کا یہ سخت بیان برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم (Andy Burnham) کی جانب سے غزہ جنگ پر اسرائیلی حکومت پر شدید تنقید اور سخت پابندیوں کی حمایت کے بعد سامنے آیا ہے۔ برطانوی حکومت نے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر ممکنہ پابندیوں کی بھی تائید کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2024 میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) بھی اسی نوعیت کا متنازع بیان دے چکے ہیں، جس میں انہوں نے برطانیہ کو پہلی اسلام پسند ایٹمی طاقت بننے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

اسرائیلی اپوزیشن جماعت ‘ڈیموکریٹس’ کے رہنماء ایوی ڈابوش (Avi Dabush) نے نیتن یاہو کے اس بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک اہم اور دیرینہ اتحادی ملک کا مذاق اڑانے اور اسرائیلی حکومت کی “خوفناک سفارتی ناکامی” کا مظہر قرار دیا ہے۔