لندن (ویب ڈیسک): ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی میں توسیع کی امیدوں اور عالمی سطح پر تیل کی طلب کم رہنے کے تخمینوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، بین الاقوامی معیار برینٹ خام تیل (Brent Crude) کے اکتوبر ڈلیوری کے سودوں میں 1.29 ڈالر (تقریباً 1.5 فیصد) کمی کے بعد قیمت 87.69 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
اسی طرح، امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 1.30 ڈالر (تقریباً 1.6 فیصد) سستی ہو کر 81.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔
: رائٹرز کے مطابق، اوپیک (OPEC) اور عالمی توانائی کے اداروں نے سال 2026 میں خام تیل کی عالمی طلب کے تخمینوں میں کمی کی ہے، جس سے مارکیٹ میں کھپت گھٹنے کے خدشات پیدا ہوئے۔
امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے کی اطلاعات نے مارکیٹ میں رسد (Supply) کی وافر دستیابی کا اشارہ دیا، جس نے قیمتوں پر مزید دباؤ ڈالا۔
اگرچہ تجارتی اعداد و شمار میں قیمتیں نیچے آئی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور بالخصوص آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے متعلق خدشات نے قیمتوں کو کسی بڑی گراوٹ سے روکے رکھا ہے۔
خلیج فارس سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر تنازع کی صورت میں سپلائی کی یہ لائف لائن متاثر ہوتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی ذخائر کے اعداد و شمار اور ایران کی پیش رفت پر مرکوز رہیں گی۔





