لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

فیفامیں صدارتی بحران شدت اختیارکرگیا:یوفاکا انفینٹینوکی قیادت کاخاتمہ اورہنگامی تحقیقات کامطالبہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

زیورخ / لندن (ویب ڈیسک): ورلڈ کپ اور اپنے دیگر اہم ٹورنامنٹس کا حصہ (اسٹیک) نجی کمپنیوں کو بیچنے کا متنازع منصوبہ واپس لینے کے باوجود فیفا (FIFA) کے صدر جیانی انفینٹینو (Gianni Infantino) کی مشکلات میں کمی نہیں آ سکی۔

یورپی فٹبال باڈی یوفا (UEFA) نے شدید الفاظ پر مشتمل ایک ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انفینٹینو کا طریقہِ حکمرانی نااہل قرار دیا ہے اور فیفا کی قیادت اور گورننس کے مکمل اور بنیادی تجزیے (Review) کا مطالبہ کر دیا ہے۔

یوفا کے صدر الیگزینڈر چیفرن (Aleksander Ceferin) کی قیادت میں جاری ہونے والے بیان میں فیفا صدر کے اس منصوبے کو ”خفیہ سکیمیں“، ”پردے کے پیچھے ڈیلز“ اور ”غیر شفاف رویہ“ قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ:

”ہم اس طرح کی خفیہ تدابیر اور نامعلوم افراد کی بنائی گئی اسکیموں کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے۔ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ موجودہ فیفا قیادت نہ صرف یوفا کا بلکہ عالمی فٹبال کی اکثریت کا اعتماد کھو چکی ہے۔“

ورلڈکپ کاحصہ بیچنےکی تجویزپر جیانی انفینٹینو کےسینئرمشیرکارلوس کورڈیروکااستعفیٰ

اگرچہ جیانی انفینٹینو مارچ میں ہونے والے فیفا صدارتی الیکشن میں مسلسل تیسری بار بلا مقابلہ منتخب ہونے کی امید لگا رہے تھے، تاہم یورپ، نارتھ امریکہ (CONCACAF) اور دیگر براعظموں نے اب ان کے خلاف مشترکہ امیدوار کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وکٹر مونٹاگلیانی (Victor Montagliani): شمالی امریکی کنفیڈریشن (CONCACAF) کے صدر۔
شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ: ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن (AFC) کے سربراہ۔
ناصر الخلیفی: فرانسیسی کلب PSG کے صدر (اگرچہ وہ فی الحال اس دوڑ میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں)۔

امیدواروں کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 18 نومبر ہے اور یوفا تمام کنفیڈریشنز کے ساتھ مل کر حتمی نام کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

انگلینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن (FA)، جرمن فٹبال ایسوسی ایشن (DFB) اور ہالینڈ کی KNVB نے بھی یوفا کے مؤقف کی مکمل حمایت کی ہے۔

فیفااوریورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفاکے درمیان شدیدتنازع کھڑاہوگیا

جرمن FA کے صدر برنڈ نیوئنڈورف: ”انفینٹینو نے یکطرفہ، غیر شفاف اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں کام کیا۔“

ہالینڈ کی KNVB: ”منصوبہ واپس لینے سے معاملہ ختم نہیں ہوا، انفینٹینو پر سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔“

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم: انہوں نے فیفا کی پیچھے ہٹنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انفینٹینو ”اس تنظیم کی قیادت کے لیے غلط شخص ثابت ہوئے ہیں۔“

یوفا نے انفینٹینو کی جانب سے ممبر ممالک کو پیسے بانٹ کر اپنی صدارت مضبوط رکھنے کے طریقہ کار Fifa Forward Program پر بھی کڑی تنقید کی۔ یوفا کا کہنا ہے کہ فیفا کے بینک اکاؤنٹس میں 5 ارب ڈالر سے زائد ذخائر بیکار پڑے ہیں اور اس کے باوجود وہ عالمی فٹبال کا اثاثہ بیچنا چاہتے تھے، جو بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

یوفا اب تمام 211 ممبر ممالک کے لیے فنڈز کی تقسیم کے ایک بالکل نئے اور شفاف نظام پر کام کا آغاز کر رہی ہے۔