نیویارک (ویب ڈیسک): فٹ بال کی عالمی باڈی فیفا (FIFA) اور یورپی فٹ بال کی گورننگ باڈی یوئیفا (UEFA) کے درمیان شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ یورپی ممالک نے آئندہ ورلڈ کپ کے مکمل بائیکاٹ کی دھمکی دے دی ہے، اگر فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو (Gianni Infantino) نے ورلڈ کپ کے اسٹیکس اور شیئرز پرائیویٹ سرمایہ کاروں کو بیچنے کے اپنے متنازع منصوبے کو آگے بڑھایا۔
یوئیفا (UEFA) نے آج ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اس صورتحال پر لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ انفینٹینو ایک 20 ارب ڈالرز ($20bn) کی ذیلی کمپنی (Subsidiary) بنانے پر غور کر رہے ہیں جو فیفا ورلڈ کپ اور دیگر ایونٹس کے انتظامات سنبھالے گی۔ اس مقصد کے لیے فیفا فارورڈ انٹرپرائز کے 20 فیصد سے زائد شیئرز ($4.2bn) فروخت کرنے کا منصوبہ ہے۔
یوئیفا نے اپنے ایک شدید مذمتی بیان میں کہا”یہ وہ حد ہے جسے فٹ بال کے سرفہرست اداروں کو کبھی عبور نہیں کرنا چاہیے۔ فٹ بال کی روح اور اس کی گورننس فروخت کرنے کی اشیاء نہیں ہیں—خاص طور پر تب جب اس بات کی کوئی شفافیت نہ ہو کہ اس سے مالی فائدہ کس کو ہوگا۔ ہم میں سے کوئی بھی فٹ بال کا مالکانہ حق نہیں رکھتا، یہ فیفا کی ملکیت نہیں ہے کہ وہ اسے بیچے۔“
اس تازہ ترین تنازع کے تناظر میں ایکسپریس فٹ بال نے ورلڈ کپ کی تاریخ کے ان چند اہم واقعات کو اجاگر کیا ہے جب مختلف ممالک نے ورلڈ کپ میں شرکت سے انکار کیا یا بائیکاٹ کیا:
یوراگوئے (1934): 1930 کے پہلے ورلڈ کپ کا چیمپئن یوراگوئے 1934 کے اٹلی ورلڈ کپ میں شرکت سے مکر گیا۔ وجہ یہ تھی کہ 1930 میں یورپی ممالک نے جنوبی امریکا کا سفر کرنے سے انکار کیا تھا، جس کا بدلہ یوراگوئے نے بائیکاٹ سے لیا۔ یہ تاریخ کا واحد موقع ہے جب دفاعی چیمپئن نے ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لیا۔
آسٹریا (1938): نازی جرمنی کی افواج نے آسٹریا پر قبضہ (Annex) کر لیا تھا جس کی وجہ سے آسٹریا ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ بعد میں آسٹریا کے کئی کھلاڑیوں کو مجبوراً جرمن ٹیم کی طرف سے کھلایا گیا۔
بھارت نے 1950 میں کوالیفائی تو کر لیا تھا لیکن سفر کے اخراجات، تیاری کے وقت کی کمی اور ٹیم سلیکشن کے مسائل کے باعث ایونٹ میں شرکت نہیں کی۔
فیفا نے افریقہ، ایشیا اور اوشیانا براعظموں کو ملا کر صرف ایک کوالیفائنگ اسپاٹ دیا تھا۔ اس ناانصافی کے خلاف الجیریا، کیمرون، نائجیریا، مراکش اور مصر سمیت 15 افریقی ممالک نے کوالیفائنگ راؤنڈز کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
چلی کے آمریت پسند حکمراں آگسٹو پنوشے کے خلاف احتجاجاً سوویت یونین نے چلی کے خلاف پلے آف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد چلی کو خالی میدان میں گول کر کے فاتح قرار دیا گیا۔
2022 کے قطر ورلڈ کپ میں 7 یورپی ممالک کے کپتانوں نے “OneLove” بینڈز پہننے کے مطالبات کیے اور انسانی حقوق کے مسائل پر احتجاج کیا۔ علاوہ ازیں، تناؤ کے باعث ایران کی جانب سے بھی میچز میکسیکو شفٹ کرنے کی اپیل کی گئی تھی تاہم بعد میں سفری پابندیوں کے ساتھ ایران نے ٹورنامنٹ میں حصہ لیا۔





