نیویارک: عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ‘ریسرچ فار لائف’ (Research4Life) شراکت داری کی 25ویں سالگرہ منائی ہے۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے محققین، اساتذہ، ہیلتھ پروفیشنلز اور پالیسی سازوں کو مفت یا انتہائی مناسب قیمت پر سائنسی اور طبی معلومات فراہم کر رہی ہے۔
سنہ 2001 میں عالمی ادارہ صحت کی قیادت میں محض 3 سالہ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع ہونے والا یہ پروگرام آج 120 سے زائد ممالک میں سائنسی علم کے فروغ اور تحقیقی مساوات کا سب سے بڑا عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
غیر جانبدارانہ مطالعاتی رپورٹس کے مطابق ‘ریسرچ فار لائف’ کی بدولت:
تحقیقی آرٹیکلز کی اشاعت: مختلف ممالک میں ریسرچ پیپرز کی اشاعت میں 75 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز: عالمی سطح کے کلینیکل ٹرائلز میں شرکت میں 20 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
خواتین محققین کا کردار: مشکلات کا شکار ممالک میں خواتین محققین کی جانب سے پیپرز کی اشاعت کی شرح میں 30 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر سلویا برائنڈ (Dr Sylvie Briand) نے کہا “جو اقدام صحت کے شعبے میں معلومات کے خلا کو پر کرنے کے لیے شروع ہوا تھا، وہ آج تحقیقی مساوات کی ایک عالمی تحریک بن چکا ہے۔ 25 سالوں سے ریسرچ فار لائف نے یہ یقینی بنایا ہے کہ محققین زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے درکار سائنسی شواہد تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں۔”
جب 2001 میں اس اقدام کا آغاز ہوا تو اس میں صرف 6 پبلشنگ پارٹنرز شامل تھے۔ آج اس پلیٹ فارم پر 185 سے زائد پبلشرز اور اتحادی تنظیمیں موجود ہیں، جس کے ذریعے 12,000 سے زائد اداروں کو 2,500,000 (2 لاکھ 50 ہزار) سے زائد سائنسی جریدوں، کتب اور ڈیٹا بیسز تک رسائی حاصل ہے۔
ریسرچ فار لائف کا 25 واں سالگرہ کا اجلاس ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (WIPO) کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں 2030 کی اسٹریٹجی مرتب کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد اوپن سائنس کے دور میں آرٹیکل پروسیسنگ چارجز اور دیگر مالی رکاوٹوں کو ختم کر کے سائنسی علم کو تمام انسانوں کا مشترکہ اثاثہ بنانا ہے۔
واضح رہے کہ اس اقدام کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کے علاوہ وپو (WIPO)، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO)، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO)، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) اور کورنیل و ییل یونیورسٹیز کی سرپرستی حاصل ہے۔





