لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی فیڈرل ریزروکا2023 کےبعدپہلی بارشرحِ سودمیں اضافےکابڑافیصلہ،افراطِ زرکاکنٹرول ہدف

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی مرکزی بینک ‘فیڈرل ریزرو’ (US Federal Reserve) نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراطِ زر (Inflation) پر قابو پانے کے لیے جولائی 2023 کے بعد پہلی بار شرحِ سود میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔

فیڈ کی اوپن مارکیٹ کمیٹی نے متفقہ طور پر بینچ مارک انٹرسٹ ریٹ میں چوتھائی فیصد (0.25%) اضافے کی منظوری دی، جس کے بعد نئی شرحِ سود 3.75 فیصد سے بڑھ کر 4 فیصد کی حد تک پہنچ گئی ہے۔

فیڈرل ریزرو کے سربراہ کیون وارش (Kevin Warsh) کے اس فیصلے کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں اور بیانات سے تصادم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کے مطالبات کے باوجود مرکزی بینک نے اپنے آزادی اور بااختیار ہونے کا واضح ثبوت دیا ہے۔

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرول ایک ڈالر فی گیلن مہنگا ہوا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت $6.31 کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

فیڈ حکام کا ماننا ہے کہ افراطِ زر کو 2 فیصد کے مطلوبہ ہدف تک لانے میں 2029 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

کمیٹی کی نئی پیش گوئی کے مطابق رواں سال کے اختتام سے قبل شرحِ سود کو مزید بڑھا کر 4.25% سے 4.5% تک لے جایا جا سکتا ہے۔

شرحِ سود میں اس اضافے کا براہِ راست اثر امریکی شہریوں کے ہاؤسنگ مارگیج، کار لون، اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ لونز اور کریڈٹ کارڈ کے سود پر پڑے گا۔ ستمبر کے آئندہ وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے قبل اس معاشی فیصلے اور مہنگائی نے سیاسی ماحول میں بھی گرمی پیدا کر دی ہے۔