لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکہ نےپاکستان کوہزاروں سال قدیم چوری شدہ تاریخی نوادرات واپس کردیے

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: نیویارک کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر میں 14 ستمبر 2026 کو ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس نے پاکستان سے چوری کیے گئے تاریخی اور قدیم نوادرات کی ایک اور اہم کھیپ نیویارک میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل کے حوالے کر دی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر اور حکومتِ پاکستان کے درمیان نوادرات کی قانونی واپسی کا باقاعدہ معاہدہ طے پایا۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت کل 36 نایاب نوادرات پاکستان کو واپس منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ان میں چوتھی صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والا خاکستری پتھر (Grey Schist) کا ایک نایاب مجسمہ ‘یکشی’ (Yakshi) اور 2700 سے 3000 قبل مسیح کی مٹی سے بنی 35 قدیم ترین ‘فرٹیلیٹی فگرز’ (Terracotta Fertility Figures) شامل ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے نوادرات کی غیر قانونی تسکری روکنے اور ان کی بحالی کے لیے ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کے ‘اینٹی کوئٹیز ٹریفکنگ یونٹ’ (Antiquities Trafficking Unit) کی مسلسل کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی ورثہ کسی ایک قوم کے بجائے پوری انسانیت کا سانجھا ورثہ ہوتا ہے۔ قونصل جنرل کا مزید کہنا تھا کہ ان نوادرات کی قانونی بازیافت اور پاکستان واپسی سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی آنے والی نسلوں کو انسانی تہذیب کی ان غیر معمولی اور تاریخی نشانیوں کو سمجھنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔