اسلام آباد/واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد منگل کے روز ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے گا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک “منصفانہ ڈیل” کی پیشکش کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ انکار کی صورت میں ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے، جس کے باعث اسلام آباد کے مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ “سفارت کاری کے میدان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے”، تاہم انہوں نے فریقین کے درمیان بڑے خلیج کا اعتراف بھی کیا۔
جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، سرینا ہوٹل کے اطراف خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں اور ہوٹل کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ شہر میں پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات ہے تاکہ مذاکرات کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے دو بھارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی ہے جس کے بعد بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جبکہ ایران نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔





