نیویارک: یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے ٹکٹوں کی مہنگے داموں فروخت اور ری سیلنگ پر تنقید کے بعد میئر زہران ممدانی اور یو ایس ٹینس ایسوسی ایشن (USTA) نے نیویارک سٹی کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ اس پہل کے تحت نیویارک کے شہریوں کے لیے 1,000 ٹکٹس صرف 100 ڈالر فی ٹکٹ کی رعایتی قیمت پر فراہم کیے جائیں گے۔
یہ ٹکٹس بدھ، 26 اگست کو صبح 10 بجے سے پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر دستیاب ہوں گے۔ یہ رعایت صرف تصدیق شدہ زپ کوڈ کے حامل نیویارک کے مقامی رہائشیوں کے لیے ہے، اور ایک شخص زیادہ سے زیادہ دو ٹکٹس خرید سکے گا۔ ان ٹکٹوں کو ‘ٹکٹ ماسٹر’ یا کسی بھی سیکنڈری مارکیٹ میں دوبارہ فروخت (Re-sell) کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
رعایتی ٹکٹس 30 اگست (مین ڈرا کا آغاز) سے لے کر 8 ستمبر (پہلے کوارٹر فائنلز) تک کے میچوں کے لیے درست ہوں گے۔ ان میں آرتھر ایش اسٹیڈیم، لوئس آرمسٹرانگ اسٹیڈیم اور جنرل گراؤنڈز پاسز شامل ہیں۔
آرتھر ایش ہولڈرز آرمسٹرانگ اسٹیڈیم اور تمام دیگر کورٹس کی عمومی نشستوں پر جانے کے مجاز ہوں گےجبکہ لوئس آرمسٹرانگ ہولڈرز آرتھر ایش کے علاوہ باقی تمام کورٹس تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ ان تمام ٹکٹوں کی اصل قیمت 100 ڈالر سے زائد ہے، تاہم اضافی رقم کا بوجھ USTA خود برداشت کرے گا۔ حال ہی میں ری سیل مارکیٹ میں 65 ڈالر کا گراؤنڈ پاس 325 ڈالر تک فروخت ہو رہا تھا جس پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔
میئر زہران ممدانی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر دنیا کے بہترین ٹینس کھلاڑی نیویارک آ رہے ہیں تو یہاں کے عام شہریوں کو بھی انہیں کھیلتے دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ دوسری جانب USTA کے سی ای او کریگ ٹائلی نے بتایا کہ 29 اگست تک ‘فین ویک’ کے تحت ٹینس شائقین کے لیے تمام کورٹس میں داخلہ بالکل مفت ہے۔





