کھٹمنڈو: نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث بڑی سطح پر تباہی پھیل گئی ہے۔ نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق واقعے میں کم از کم 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سیکڑوں غیر ملکی سیاح لاپتا ہیں، جن میں 100 سے زائد بھارتی اور 12 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
تبت کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور نیپال سے آنے والی تصاویر میں پانی اور کیچڑ کے ایک خوفناک ریلے کو سرحدی عمارتوں کو تباہ کرتے اور لوگوں کو جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدرتی آفت سال 2015 کے مہلک زلزلے کے بعد ملک کی سب سے بڑی تباہی ہے، جس میں تقریباً 9 ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
نیپالی وزیر خارجہ کے مطابق سیلاب کے پیچھے ممکنہ طور پر زلزلہ اور برفانی تودہ گرنے کا واقعہ شامل ہے، تاہم حتمی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تبت میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ذاتی ہدایات جاری کی ہیں۔
دشوار گزار پہاڑی راستے، مسلسل خراب موسم اور سیلابی تباہ کاریوں کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں لاپتا سیاحوں اور مقامی افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم شدید تباہی کے پیش نظر ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





