لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

نیویارک سٹی میں کرایوں کےتمام ریکارڈ ٹوٹ گئے؛ رہائشی بحران پرقابو پانےکیلئے32 قانون سازیوں کی تجویز

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک سٹی میں رہائش کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ موزوں قیمتوں پر اپارٹمنٹ کا ملنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جبکہ دستیاب مکانات اکثر و بیشتر مرمتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ‘کورکورن گروپ’ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، مین ہٹن میں اوسط ماہانہ کرایہ 6,555 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے، جبکہ اسٹوڈیو اور ایک بیڈ روم والے اپارٹمنٹس کا اوسط کرایہ 5,486 ڈالر ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بروکلین میں بھی اسٹوڈیو اور ایک بیڈ روم اپارٹمنٹس کا اوسط کرایہ 6 فیصد اضافے کے ساتھ 4,302 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح دو بیڈ روم اپارٹمنٹس کا کرایہ 2 فیصد اضافے کے ساتھ 5,547 ڈالر جبکہ تین بیڈ رومز کا کرایہ 7,161 ڈالر برقرار ہے۔

کرایوں میں بے تحاشا اضافے اور مکانات کی ابتر صورتحال کے خلاف منتخب نمائندگان اور عوامی رہنماؤں نے ‘سیٹی ہال پارک’ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر اسمبلی ممبر ٹونی سیمون کی تیار کردہ ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے کے لیے 32 مختلف قانونی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

ٹیننٹ پروٹیکشن سٹرینتھننگ ایکٹ (A659): یہ بل ٹیکس مراعات حاصل کرنے والے مالک مکانات کو کرائے کی منسوخی کے حوالے سے غلط معلومات دینے سے روکتا ہے۔ اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد یہ گورنر کیتھی ہوچل کے دستخط کا منتظر ہے۔

ہیزرڈ فری ہومز ایکٹ (A6735): اگر مالک مکان مرمت میں ناکام رہے تو یہ قانون کرایہ داروں کو خطرناک نقائص خود ٹھیک کروا کر رقم کرائے سے کاٹنے کا اختیار دیتا ہے۔

پینلٹیز فار رینٹ اوور چارجز ایکٹ (A654/S467): کرایہ داروں سے زائد رقم وصول کرنے والے مالک مکانات پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی تجویز۔

نائیچا ویکنٹ یونٹ ڈیٹا بیس ایکٹ (A794): سرکاری ہاؤسنگ اتھارٹی (NYCHA) کو خالی اپارٹمنٹس، ان کی مرمت کی مدت اور دستیابی کا عوامی ڈیٹا بیس قائم کرنے کا پابند بناتا ہے۔

اگر یہ قانون سازی عمل میں آتی ہے تو حکام کے مطابق یہ ملک بھر میں کرایہ داروں کے تحفظ کا سب سے مضبوط نظام ہو گا۔