واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اردن اور عراق میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجی اہلکاروں کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق جمعہ کے روز اردن میں واقع موفق سالتی ایئر بیس (Muwaffaq Salti Air Base) پر ایرانی حملے میں 25 سالہ فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان (1st Lt. Tyler James Feehan) اور 19 سالہ پرائیویٹ ازابیلا گونزالیس (Pvt. Isabella Gonzales) ہلاک ہوئے۔
اس کے علاوہ منگل کے روز پینٹاگون نے ایک اور امریکی فوجی سارجنٹ مائیکل ایمینوئل سونٹن (Sgt. Michael Emmanuel Swinton) کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی، جو 19 جولائی کو عراق میں مار گرائے گئے ایک ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کنٹرولڈ کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
ٹائلر جیمز فیہان کے والدین نے سی این این (CNN) کو دیے گئے جذباتی بیان میں کہا کہ: “ہم اپنے بیٹے کی جدائی پر مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہیں۔ ٹائلر اس تعنیاتی کے بعد واپس آ کر شادی کرنے والا تھا، اس نے اپنی 25 سالہ زندگی میں وہ سب حاصل کیا جو لوگ پوری زندگی میں بھی نہیں کر پاتے۔”
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والے حملے میں دیگر امریکی اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے، جن میں سے 4 کو طبی امداد کے لیے اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا جنہیں اب ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے اردن میں کیے گئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
گزشتہ تقریباً 5 ماہ سے جاری اس جنگ میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجی اہلکاروں کی مجموعی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے۔
ماضی کے واقعات: اس سے قبل یکم مارچ کو کویت کی شعیبہ بندرگاہ پر ایرانی حملے میں 6 امریکی ریزرو فوجی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 12 مارچ کو عراق میں امریکی فضائیہ کا ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ (KC-135) حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں 6 اہلکار مارے گئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کو ایک “انتہائی افسوسناک واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک و قوم کی خدمت میں جان دی۔
خطے میں جاری اس سنگین جنگ کے باوجود سفارتی حل کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، جبکہ ایرانی حکام نے بھی بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔





