لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

UN Briefing Spotlights Debt Crisis and Solutions for Emerging Economies

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے “باروورز پلیٹ فارم” (Borrowers Platform) کے حوالے سے منعقدہ بریفنگ میں خطاب کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو درپیش سنگین قرضوں کے بحران اور اس کے حل کے لیے نئے عالمی پلیٹ فارم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

سفیر عاصم افتخار نے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا کی 3.3 ارب آبادی ایسے ممالک میں مقیم ہے جو اپنی صحت اور تعلیم کے بجٹ سے زیادہ رقم قرضوں کی واپسی (Debt Servicing) پر خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا بوجھ بن چکی ہے، جس کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کی ڈھانچہ جاتی خامیاں ہیں۔

پاکستانی مندوب نے بتایا کہ اب تک عالمی مالیاتی نظام میں صرف قرض دینے والے ممالک (Creditors) کے مفادات کے تحفظ کے لیے میکانزم موجود تھے، لیکن قرض لینے والے ممالک کے پاس ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا جہاں وہ اپنے تجربات اور چیلنجز کا تبادلہ کر سکیں۔

اس پلیٹ فارم کا فیصلہ گزشتہ سال “سیویلا کمٹمنٹ” (Sevilla Commitment) کے تحت کیا گیا تھا۔

اس کا مقصد ممبر ممالک کے درمیان قرضوں کے انتظام (Debt Management) میں تعاون، تکنیکی مدد تک رسائی، اور عالمی سطح پر قرض لینے والے ممالک کی آواز کو مضبوط بنانا ہے۔

سفیر نے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم مذاکرات یا قرضوں کی اجتماعی ری اسٹرکچرنگ کا فورم نہیں، بلکہ صرف باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کا ایک رضاکارانہ ذریعہ ہے۔

اس نئے پلیٹ فارم کا باقاعدہ آغاز 15 اپریل 2026 کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے موسمِ بہار کے اجلاسوں (Spring Meetings) کے موقع پر کیا جائے گا۔