لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ایران کےساتھ کسی قسم کی ڈیل نہیں کرنا چاہتے،امریکی صدر

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

انقرہ (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہیں کرنا چاہتے اور ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ عبوری معاہدہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کار اچھے لوگ ہیں، اگر وہ چاہیں تو ایران سے بات کر سکتے ہیں۔

انقرہ میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ گزشتہ رات امریکا نے ایران کے انتہائی خطرناک عناصر کو بھرپور طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں اور ان کے ساتھ سختی سے نمٹنا ناگزیر تھا۔

امریکی صدر نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا: “ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے، ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم نے ایران کی تمام پرانی قیادت کو ختم کر دیا ہے اور اب وہاں تمام نئے لوگ ہیں۔ ایران سے مذاکرات میں ہمارا پہلے ہی کافی وقت ضائع ہو چکا ہے۔”

صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی نیوی اور فوج کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے سعودی عرب اور قطر کے جہازوں پر حملے کیے اور ہمارے ہزاروں فوجیوں کی جانیں لیں، اس لیے اب ایران کے معاملے پر ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا لیکن انہوں نے خود ترکیہ کو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے روکا۔ اس موقع پر انہوں نے چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین نے بھی ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا۔

صدر ٹرمپ نے نیٹو (NATO) اور اسپین کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو نے ایران کے معاملے پر امریکا کی مدد نہیں کی، نیٹو میں امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا:”امریکا کو نیٹو کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ امریکا کا مشکل ترین شراکت دار ہے۔ گرین لینڈ اور ایران کے معاملات پر میں نیٹو سے خوش نہیں ہوں اور گرین لینڈ امریکا کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔”

اسپین سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا اسپین کے ساتھ کوئی تجارت یا تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ انہوں نے امریکی وزیر خزانہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ اسپین سے تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

اس موقع پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹ نے امریکی صدر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور گرین لینڈ سے متعلق معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔