واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی اور تنازع کا حل جنگ نہیں بلکہ سفارت کاری، مذاکرات اور پائیدار معاہدے میں مضمر ہے، اسی لیے ایران پر مجوزہ بڑا فوجی حملہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ایران پر انتہائی بڑے پیمانے پر فوجی حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم یہ حملہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (UAE)، قطر اور خود ایران کی خصوصی درخواست پر منسوخ کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ ملٹری کارروائی کی جاتی تو یہ دوسری جنگِ عظیم (World War II) کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا:
”میری خواہش لوگوں کو مارنا اور تباہی پھیلانا نہیں بلکہ امن کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہے۔ ہم ملٹری ایکشن کے بجائے سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ کے ہمارے اتحادی ممالک بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں۔“
امریکی صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکراتی فریم ورک کے تحت رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی مذاکرات کا آغاز آج دوپہر سے ہو رہا ہے۔ امریکہ جب بھی ضرورت ہو بات چیت کے لیے تیار ہے اور امید ہے کہ یہ مذاکرات مثبت نتائج دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے بحری راستے کے حوالے سے ایک معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے، جبکہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام اور خاتمے سے متعلق بھی ایک اہم معاہدہ جلد متوقع ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ مذاکرات خدانخواستہ ناکام ہوئے تو تنازع ایک بار پھر شدید ہو سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سلامتی پر پڑیں گے۔ تاہم ان کی انتظامیہ سفارتی کوششوں کو ہر ممکن موقع دے گی تاکہ خطے کو نئی ہولناک جنگ سے بچایا جا سکے۔
صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے کینیڈا میں جنگلات کی آگ (Canada Wildfires) کے مسئلے پر قابو پانے اور اقدامات کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور اس معاملے پر کیا اقدام اٹھایا گیا ہے اس کا علم سب کو جلد ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل تہران اور ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا کسی نئے معاہدے سے متعلق امریکی دعووں اور خبروں کی تردید کی تھی.





