لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ٹیکس ورلڈاین وائی سی 2026: نیویارک کے جاوِٹس سینٹرمیں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کاڈنکابج گیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک کے معروف ’جیکب کے جاوِٹس کنونشن سینٹر‘ (Jacob K. Javits Convention Center) میں عالمی ٹیکسٹائل نمائش ’ٹیکس ورلڈ این وائی سی 2026‘ (Texworld NYC 2026) کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

اس بین الاقوامی نمائش میں پاکستان نے اپنے قومی پویلین کے ذریعے ٹیکسٹائل، ملبوسات، ہوم ٹیکسٹائل، لیدر مصنوعات اور اسپورٹس ویئر سمیت اعلیٰ معیار کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات عالمی خریداروں کے سامنے پیش کر دی ہیں۔

پاکستان پویلین کا باقاعدہ افتتاح امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کیا۔ اس پروقار تقریب میں نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی اور ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر عدنان محمود اعوان بھی ان کے ہمراہ تھے۔

نمائش میں پاکستان پویلین کا اہتمام ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور قونصل خانہ پاکستان نیویارک کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ونگ کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔

پویلین میں پاکستان کی 5 ممتاز کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں جو ہوم ٹیکسٹائل، تولیے، تیار ملبوسات، لیدر گارمنٹس، اسپورٹس ویئر، گلوز (دستانے) اور دیگر اعلیٰ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی نمائش کر رہی ہیں۔

افتتاح کے بعد سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ اور ان کے وفد نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، نمائش کنندگان سے ملاقات کی اور ان کی مصنوعات کے معیار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر برآمد کنندگان کے ساتھ امریکی مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی مواقع بڑھانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال بھی کیا گیا۔

سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ”حکومتِ پاکستان، واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ اور نیویارک کا قونصل خانہ پاکستانی برآمد کنندگان کو امریکی منڈی میں اپنی رسائی بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتے رہیں گے۔ پاکستان اور امریکا کے تجارتی روابط کو وسعت دینے اور ’میڈ اِن پاکستان‘ (Made in Pakistan) برانڈ کو عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام دلانے کے لیے مربوط اقدامات جاری رہیں گے۔“

ٹیکس ورلڈ این وائی سی عالمی ٹیکسٹائل اور اپیرل انڈسٹری کی نمایاں نمائشوں میں سے ایک ہے، جس میں امریکا اور دنیا بھر سے خریدار، معروف برانڈز اور سورسنگ پروفیشنلز شرکت کرتے ہیں۔

3 روزہ نمائش کے دوران پاکستانی کمپنیاں عالمی خریداروں اور درآمد کنندگان کے ساتھ بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتیں کریں گی، جن کے نتیجے میں نئے برآمدی معاہدوں اور طویل المیعاد تجارتی شراکت داریوں کی راہ ہموار ہونے کی قوی توقع ہے۔