مکہ مکرمہ (ویب ڈیسک): سعودی عرب کی وزارتِ سیاحت نے وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ اور انشورنس اتھارٹی کے اشتراک سے اپنے نئے اور جدید ’ٹورازم پیکیج ویزا‘ (Tourism Package Visa) کے پائلٹ (ابتدائی) مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس نئی سہولت کے تحت اب زائرین اور سیاح مجاز ٹریول پرووائیڈرز کے ذریعے ایک ہی پیکیج میں فلائٹس، رہائش (ہوٹل) اور انشورنس بک کروا کر الیکٹرانک ویزا (ای ویزا) آسانی سے حاصل کر سکیں گے۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کی رپورٹ کے مطابق، اس اقدام کا مقصد سفری طریقہ کار کو انتہائی آسان بنانا، ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنا اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے تحت قومی معیشت میں سیاحت کے شعبے کا حصہ بڑھانا ہے۔
اس نئے پیکیج ویزا کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے آنے والے زائرین نہ صرف عمرہ ادا کر سکیں گے، بلکہ انہیں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے، مختلف تقریبات میں شرکت کرنے اور مملکت کے دیگر سیاحتی مقامات کی سیر کرنے کی مکمل آزادی اور لچک حاصل ہوگی۔
اس سروس کا ابتدائی مرحلہ دنیا کی چند اہم ترین مارکیٹوں کے لیے شروع کیا گیا ہے، جن میں پاکستان، انڈیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، مصر، اردن، مراکش اور میکسیکو شامل ہیں۔
سفر و سیاحت کے ماہرین نے اس فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ حج و عمرہ سروسز کے مشیر احمد صالح حلبی نے عرب نیوز کو بتایا کہ پرانے ویزا سسٹم میں زیادہ تر توجہ صرف عمرہ یا مخصوص وزٹ ویزوں پر ہوتی تھی، جس میں زائرین کے لیے لچک کم تھی اور انہیں قلیل مدتی دوروں کے لیے بھی وزارتِ حج و عمرہ سے لائسنس یافتہ کمپنیوں کے مخصوص پروگرامز خریدنا پڑتے تھے۔
تاہم، یہ نیا سسٹم زائرین کو بڑی سہولت دیتا ہے کہ وہ عمرے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ پورے سعودی عرب کی سیر بھی کر سکیں۔
ایک ٹریول کمپنی کے مالک ہادی فواد حیدر نے اس سروس کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگلے مراحل میں عام ٹریول لائسنس رکھنے والی مزید مقامی سعودی کمپنیوں کو اس میں شامل کیا جائے گا، جس سے مسابقت بڑھے گی اور زائرین کو مزید بہتر اور سستے آپشنز ملیں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس انقلابی اقدام سے جہاں زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا، وہاں ٹرانسپورٹیشن، ٹور گائیڈنگ اور دیگر معاون شعبوں میں سعودی نوجوانوں کے لیے روزگار کے شاندار نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔





