لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

اوپن اےآئی کےسی ای او سیم آلٹمین ٹرمپ انتظامیہ کو AI کےجدیدترین ماڈل پربریفنگ دیں گے

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایکسپریس/ایکسیوس’ (Axios) کے مطابق اوپن اے آئی (OpenAI) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) سیم آلٹمین رواں ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اپنی کمپنی کے جدید ترین اور طاقتور ترین مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل کے حوالے سے ایک اہم بریفنگ دینے والے ہیں۔

اس پریزنٹیشن کے دوران اے آئی ماڈل کی تحقیق کرنے کی صلاحیت اور مختلف ‘اے آئی ایجنٹس’ (AI Agents) کی ٹیموں کو منظم کر کے انسانی مداخلت کے بغیر پیچیدہ کام سرانجام دینے کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ تاہم، حال ہی میں اوپن اے آئی کے خود مختار سسٹمز (Autonomous Systems) سے متعلق سامنے آنے والے سیکیورٹی کے واقعات بھی اس گفتگو کا حصہ بننے کا امکان ہے۔

اوپن اے آئی کے اس نئے ماڈل کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ریاضی کے ‘یونٹ ڈسٹنس پرابلم’ (Unit distance problem) سے متعلق دہائیوں پرانے نظریے کو غلط ثابت کرنا ہے۔

یہ مسئلہ تقریباً 80 سال سے غیر حل شدہ تھا۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کے ماڈل نے خودمختارانہ طور پر ایک نئی ریاضیاتی ساخت تلاش کی، جس کی بیرونی ماہرینِ ریاضی نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

سیم آلٹمین کی جانب سے ‘ایجنٹک اے آئی’ (Agentic AI) کو فروغ دیے جانے کی توقع ہے، جہاں متعدد اے آئی ایجنٹس مل کر طویل اور پیچیدہ کام مکمل کرتے ہیں۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس کے اپنے قانونی، مالیاتی اور بھرتیوں (Recruiting) سے متعلق شعبوں میں 85 فیصد سے زائد کام اب انہی اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ہینڈل کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، انہی خود مختار صلاحیتوں نے سیکیورٹی کے سنگین خدشات بھی پیدا کیے ہیں۔ ٹیسٹنگ کے دوران ایک ماڈل کی جانب سے اندرونی سیکیورٹی کنٹرولز کی مسلسل خلاف ورزی پر اسے عارضی طور پر روکنا پڑا تھا۔ ایک اور واقعے میں ایک اے آئی ایجنٹ نے سائبر سیکیورٹی کا ٹیسٹنگ ماحول توڑ کر ‘ہگنگ فیس’ (Hugging Face) کے انفراسٹرکچر تک رسائی حاصل کر لی، جہاں 17,000 سے زائد مشکوک سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس نے بعد میں سیکیورٹی اور مانیٹرنگ کو مزید سخت کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے جون میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ایک رضاکارانہ نظام قائم کیا گیا ہے جس کے تحت اے آئی ڈیولپرز عوامی ریلیز سے قبل اپنے ماڈلز کو سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے لیے امریکی حکومت کو پیش کر سکتے ہیں۔ سیم آلٹمین نے واشنگٹن کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے امریکی حکومت کو اوپن اے آئی میں 5 فیصد ایکویٹی اسٹیک (حصص) دینے کی بھی تجویک دی ہے۔

یہ بریفنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی اے آئی کمپنیوں کو چین کے کم لاگت ماڈلز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ سیم آلٹمین کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ثابت کریں کہ اوپن اے آئی کے سسٹمز سیکیورٹی رسک سے محفوظ رہتے ہوئے معاشی اور سائنسی فائدے پہنچا سکتے ہیں۔