لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

نیویارک کےنجی ہائی اسکول میں ہیومنائیڈروبوٹ لانےکامتنازع منصوبہ معطل

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک کی ریاست کے ایک اسکول ڈسٹرکٹ نے اپنے ہائی اسکول میں ایک انسان نما (ہیومنائیڈ) روبوٹ متعارف کرانے کا منصوبہ شدید عوامی اور تعلیمی حلقوں کی مخالفت کے بعد فی الحال معطل کر دیا ہے۔

‘سالامانکا سٹی سینٹرل اسکول ڈسٹرکٹ’ (Salamanca City Central School District) نے 24 جولائی کو سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی کہ ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والی ٹیک کمپنی ‘ریل بوٹیکس’ (Realbotix) کے ساتھ ان کا پائلٹ پروجیکٹ روک دیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم نیویارک اسٹیٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ طلبہ کے ڈیٹا کی پرائیویسی کے طریقہ کار کو یقینی بنانے اور مقامی کمیونٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جون میں سامنے آنے والے اس منصوبے کے تحت سالامانکا ہائی اسکول میں ‘سیلی’ (Sally) نامی ایک ہیومنائیڈ روبوٹ لایا جانا تھا جس کی مالیت 58,000 امریکی ڈالر کے قریب تھی۔ سلیکون جلد اور بھورے بالوں والے اس روبوٹ کا مقصد طلبہ کے ساتھ گفتگو اور چہرے کے تاثرات کے ذریعے ایک پرکشش تعلیمی ماحول قائم کرنا تھا۔ تاہم، اس منصوبے کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب یہ بات سامنے آئی کہ ‘ریل بوٹیکس’ نے کچھ عرصہ قبل ہی ایک ایسی کمپنی کو بھی خریدا تھا جو ایڈلٹ/سیکس ڈولز (Sex dolls) بناتی ہے۔

نیویارک اسٹیٹ یونائیٹڈ ٹیچرز یونین کی صدر میلنڈا پرسن (Melinda Person) نے 23 جولائی کو اس منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: “سیکس ڈولز بنانے والی کمپنی سے وابستہ روبوٹ کا ہماری کلاس رومز میں کوئی کام نہیں ہے۔ ہمارے بچوں کو روبوٹس کی نہیں بلکہ احساس رکھنے والے انسانوں کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی روبوٹ، چاہے اس کی جلد کتنی ہی اصلی لگے، کسی استاد کی جگہ نہیں لے سکتا۔”

اس کے علاوہ، اسکول ڈسٹرکٹ کے سنیکا نیشن (Seneca Nation) کی ریڈ انڈین/نیٹِو امریکن (Native American) آبادی کی سرزمین پر واقع ہونے کی وجہ سے مقامی کمیونٹی میں بھی شدید تشویش پائی جاتی تھی۔ ہائی اسکول کی ایک قائم مقام ٹیچر، سیرا مے ابراہمس نے کہا کہ تاریخی طور پر نیٹیو امریکن بچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے روئیے کو مدنظر رکھتے ہوئے، پوری ریاست میں سے تجربات کے لیے ایک بار پھر ہمارے بچوں کا انتخاب کرنا انتہائی ناپسندیدہ ہے۔

منصوبہ معطل ہونے پر ‘ریل بوٹیکس’ کے سی ای او اینڈریو کیگل (Andrew Kiguel) نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسکول انتظامیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ اساتذہ کی حمایت اور مکمل حفاظتی جانچ کے بعد ہی آگے بڑھے۔