لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

نیویارکرزکیلئےبڑی خوشخبری،سرکاری گروسری اسٹورزپر30 فیصد رعایت

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے شہر کے عام اور محنت کش طبقے کو سستی خوراک کی فراہمی کے لیے اپنے انتخابی وعدے کی تکمیل کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بلدیاتی ملکیت میں چلنے والے گروسری اسٹورز پر بنیادی ضرورت کی اشیاء 30 فیصد رعایت پر فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

بروکلین میں ایک تقریب کے دوران میئر زہران ممدانی نے بتایا کہ نیویارک کے پانچوں اضلاع (Boroughs) میں قائم کیے جانے والے ان سرکاری گروسری اسٹورز پر سبزیاں، پھل، گوشت، سی فوڈ، روٹی، دہی، چاول، دالیں اور پاسٹا جیسی ضروری اشیاء عام مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں 30 فیصد سستی ملیں گی، جبکہ دیگر عمومی پروڈکٹس عام مارکیٹ کی قیمتوں پر فروخت کی جائیں گی۔

میئر ممدانی کے مطابق، بنیادی غذائی اجناس پر اس ڈسکاؤنٹ کے باعث ہر خریدار کو ماہانہ تقریباً 90 ڈالر یا سالانہ 1,000 ڈالر تک کی بچت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا: “نیویارک کے کسی بھی شہری کو اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

مہینے میں ایک بار ہمارے یہ پانچوں اسٹورز بنیادی اشیاء کی قیمتیں عام قیمت سے 30 فیصد کم مقرر کریں گے، جس میں کوئی تبدیلی یا دھوکہ نہیں ہوگا۔ قیمتیں پورا مہینہ مستحکم رہیں گی تاکہ شہریوں کو ہر ہفتے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے المعنی۔”

ممدانی پلان کے تحت نیویارک سٹی ان تمام اسٹورز کی زمین یا عمارت کی ملکیت اور مرمت و تعمیر کے اخراجات خود برداشت کرے گی، جبکہ روزمرہ کے امور چلانے کے لیے پرائیویٹ ٹھیکیداروں کو ذمہ داری دی جائے گی۔ سٹی انتظامیہ نے ان اسٹورز کو چلانے کے لیے 44 صفحات پر مشتمل درخواستیں (RFP) طلب کر لی ہیں اور کیپیٹل بجٹ میں اس منصوبے کے لیے 70 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

پانچ میں سے پہلا اسٹور اگلے سال ‘ہنٹس پوائنٹ’ (The Bronx) میں کھلے گا، جبکہ دوسرا اسٹور ایسٹ ہارلم کے ‘لا مارکیٹا’ (La Marqueta) میں قائم کیا جائے گا۔ تمام پانچوں اسٹورز 2029 تک مکمل طور پر فعال کر دیے جائیں گے۔

مقامی بوڈیگاس (Bodegas) کی تنقید اور میئر کی وضاحت:
نقادوں اور مقامی دکانداروں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ سرکاری گروسری اسٹورز سے چھوٹے نجی اور مقامی سٹورز (Bodegas) کے کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم میئر زہران ممدانی نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ سرکاری گروسری اسٹورز پر سگریٹ، الکحل، لاٹری ٹکٹس اور تیار شدہ گرما گرم کھانا فروخت نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی بوڈیگاس کی زیادہ تر آمدنی انہی چیزوں سے ہوتی ہے اور انتظامیہ کا ان کا مقابلہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔