شکاگو: رواں سال کے طاقتور ترین موسمیاتی مظہر ‘ایل نینو’ (El Nino) کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کے نتیجے میں آنے والے فروری تک دنیا بھر میں گرمی کی لہر سے مزید 4 لاکھ 51 ہزار افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو کے ‘کلائمٹ امپیکٹ لیب’ (Climate Impact Lab) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جون میں شروع ہونے والا ایل نینو کا سلسلہ رواں سال کے آخر میں اپنی شدید ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے، جو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے اثرات کو مزید خوفناک بنا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق، جون سے فروری کے دوران گرمی اور لو کے سبب ہونے والی اضافی ہلاکتوں کا سب سے بڑا شکار ترقی پذیر ممالک بنیں گے:
معمول سے 66,800 اضافی ہلاکتیں متوقع ہیں، جن میں سے نصف صرف نائجیریا میں ہو سکتی ہیں۔
انڈونیشیا میں 19,300، جبکہ فلپائن، ویتنام، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں مجموعی طور پر 19,400 اضافی اموات کا خدشہ ہے۔
بھارت میں 15,800 اور برازیل میں 13,300 افراد گرمی کی شدت سے متاثر ہو کر لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔
محققین کے اندازے کے مطابق آنے والے مہینوں میں دنیا بھر میں خشک سالی اور انتہائی گرم دنوں کی تعداد میں معمول سے 44 فیصد اضافہ ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار جاری کرنے کا مقصد حکومتوں اور فلاحی تنظیموں کو پیشگی اقدامات، جیسے کہ کولنگ سینٹرز، شیلٹرز اور ایمرجنسی ہیٹ ویو وارننگز کے قیام میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔





