لندن/کنشاسا: آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان ایبولا وائرس کی ایک نئی اور انتہائی خطرناک قسم کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ویکسین چند ہی ماہ میں کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف دی کانگو (DRC) میں ایبولا کے ’بیونڈی بُگیو‘ (Bundibugyo) نامی خطرناک وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک اس وائرس سے 7 افراد کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید 177 اموات کو بھی اسی وائرس سے جوڑا جا رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس مخصوص قسم کے ایبولا کے لیے تاحال دنیا میں نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مؤثر علاج دریافت ہو سکا ہے۔
آکسفورڈ کے ماہرین نے بتایا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ایک ایسی ویکسین تیار کر رہے ہیں جو وائرس کے بے قابو پھیلاؤ کی صورت میں فوری طور پر انسانی جانوں کو بچانے کے لیے استعمال کی جا سکے۔
محققین کی ٹیم ChAdOx1 BDBV نامی ویکسین پر کام کر رہی ہے، جو ’وائرل ویکٹر‘ (Viral Vector) ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ یہ وہی جدید اور آزمودہ طریقہ کار ہے جو اس سے قبل کئی عالمی وباؤں، خصوصاً کووڈ-19 کی کامیاب ویکسین کی تیاری میں استعمال کیا جا چکا ہے۔
وائرل ویکٹر ویکسین میں ایک بے ضرر اور تبدیل شدہ وائرس کو بطور ’ڈیلیوری سسٹم‘ استعمال کیا جاتا ہے، جو انسانی خلیوں تک مخصوص جینیاتی ہدایات پہنچاتا ہے تاکہ انسانی جسم کا مدافعتی نظام متحرک ہو کر اس خطرناک بیماری کے خلاف مضبوط مدافعت پیدا کر سکے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کلینیکل ٹرائلز کامیاب رہتے ہیں تو یہ افریقہ میں پھیلنے والی اس نئی وبا کے خلاف ایک بڑی ڈھال ثابت ہوگی اور وائرس کو عالمی خطرہ بننے سے پہلے ہی روکا جا سکے گا۔




