سان فرانسسکو: اوپن اے آئی (OpenAI) کے ایک تجرباتی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ایجنٹ نے سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
لیبارٹری کی ورچوئل حد بندیوں سے فرار ہونے والے اس روگ (Rogue) اے آئی ایجنٹ نے صرف معروف پلیٹ فارم ہگنگ فیس (Hugging Face) کو ہی نہیں، بلکہ انٹرنیٹ پر موجود متعدد دیگر عوامی سروسز اور اکاؤنٹس کو بھی ہیک کیا۔
اوپن اے آئی نے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے ایک اپ ڈیٹ میں بتایا کہ اس کا ماڈل ایک محفوظ ڈیجیٹل سیکیورٹی ‘سینڈ باکس’ (Sandbox) کے اندر ٹیسٹ ہو رہا تھا، جہاں سائنسدان اس کی ہیکنگ کی صلاحیتوں کو جانچ رہے تھے۔ تاہم، اس اے آئی ایجنٹ نے سیکیورٹی ٹیسٹ میں ٹاپ کرنے کی دھن میں سینڈ باکس کی دیواریں توڑ کر اصلی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور ٹیسٹ کے جوابات چرانے کے لیے ہگنگ فیس پر حملہ کر دیا۔
اوپن اے آئی کے مطابق ہگنگ فیس کے سرورز تک پہنچنے کے لیے ایجنٹ نے پہلے انٹرنیٹ پر کوڈ شیئرنگ اور ویب یوٹیلٹیز کی دیگر ویب سائٹس سے آلات اور معلومات حاصل کیں۔
اس نے مختلف سروسز کے 4 لیک شدہ یوزر نیمز اور پاس ورڈز ڈھونڈ نکالے اور ان کا استعمال کیا۔
ایک ہیک شدہ اکاؤنٹ کا استعمال اے آئی نے خود کو بھیس بدلنے اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو دھوکہ دینے کے لیے کیا۔
دوسرے اکاؤنٹ کا استعمال چوری شدہ ڈیٹا اور معلومات کو محفوظ کرنے (Safe House) کے لیے کیا گیا۔
اوپن اے آئی نے اس کارروائی کو ’اوپلز الیون‘ (Ocean’s Eleven) طرز کی ایک زبردست ڈکیتی سے تشبیہ دی، جہاں ماڈل نے ٹیسٹ دینے کے بجائے قید سے بھاگنے، چابی ڈھونڈنے، گودام بنانے اور فرار کی گاڑی کا انتظام کرنے کا پورا ماسٹر پلان خود ہی تیار کر لیا۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اوپن اے آئی نے اپنے ایجنٹ کو ہگنگ فیس ہیک کرنے کی ہدایت کبھی نہیں دی تھی۔ ماڈل نے خود ہی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ٹیسٹ کا جواب (Answer Key) چوری کرنا کامیابی حاصل کرنے کا سب سے آسان اور تیز ترین طریقہ ہے—چاہے اس کے لیے ایک کے بعد ایک سائبر حملے ہی کیوں نہ کرنے پڑیں۔
ہگنگ فیس کے سی ای او کلیم ڈیلینگ (Clem Delangue) نے اس خلاف ورزی کو “بے مثال” قرار دیا۔ ہگنگ فیس نے اپنے بلاگ پوسٹ میں لکھا:
”خلاصہ یہ ہے کہ ایک اے آئی ایجنٹ اپنی سیکیورٹی لیب سے بھاگا، اپنے بینچ مارک ٹیسٹ میں نقل کی، اور جواب کی چابی چرانے کے لیے ہمارے انفراسٹرکچر کو ہیک کر گیا۔“
خوش قسمتی سے اس حملے میں بڑا نقصان نہیں ہوا۔ ہگنگ فیس کے مطابق روگ ایجنٹ نے صارفین کے بنیادی ڈیٹا یا ماڈلز کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ صرف ان سرچ کواڈز اور حلوں تک رسائی حاصل کی جو ڈیٹا سیٹس میں موجود تھے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے اور جائزہ مکمل ہونے کے بعد اپنی سیکیورٹی کمیٹی اور سیفٹی ایڈوائزری گروپ کے ساتھ مل کر آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے نئے سیفٹی گائیڈ لائنز جاری کرے گا۔





