زیورخ / اسلو (ویب ڈیسک): فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا (FIFA) کے صدر جانی انفانٹینو (Gianni Infantino) کی قیادت کے خلاف اختلافات میں شدید تلخی آ گئی ہے۔ ناروے فٹ بال فیڈریشن نے انفانٹینو کے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ یورپی فٹ بال کی سب سے بڑی تنظیم یوئیفا (UEFA) نے فیفا کے تحت ہونے والے تمام ٹورنامنٹس اور ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی برقرار رکھی ہے۔
ناروے فٹ بال فیڈریشن کی صدر لیز کلاونیس (Lise Klaveness) نے اپنے سخت بیان میں کہا کہ جانی انفانٹینو اب فٹ بال برادری کا اعتماد مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا “انفانٹینو کو فیفا کی قیادت سے الگ ہو جانا چاہیے۔ عالمی فٹ بال کو اس وقت اقتدار کی کشمکش کے بجائے مؤثر گورننس اور شفاف اصلاحات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔”
دوسری جانب یوئیفا نے واضح کیا ہے کہ جب تک اس بات کی ٹھوس یقین دہانی نہیں کروائی جاتی کہ فٹ بال ورلڈ کپ یا دیگر فیفا مقابلے کی ملکیت یا انتظامات کسی نجی سرمایہ کار گروپ کو سونپنے جیسی کوششیں دوبارہ نہیں کی جائیں گی، اس وقت تک یورپی ٹیمیں بائیکاٹ کے اپنے موقف پر قائم رہیں گی۔
ان اختلافات کی بنیادی وجہ تجارتی حقوق اور مقابلوں کے فرنچائز ماڈل پر نجی سرمایہ کاری کے مبینہ معاہدے بتائے جا رہے ہیں۔
جانی انفانٹینو کے خلاف جہاں یورپی ایڈیلیٹ اور ناروے شدید معترض ہیں، وہیں دیگر خطوں سے انہیں حمایت بھی حاصل ہے:
میکسیکو اور ارجنٹائن کی فٹ بال فیڈریشنز نے کھلم کھلا انفانٹینو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
افریقی کنفیڈریشن (CAF): افریقی فٹ بال باڈی نے متفقہ طور پر فیفا صدر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
جنوبی امریکی کنفیڈریشن (CONMEBOL): انہوں نے فیفا صدر کی براہِ راست مخالفت سے گریز کیا ہے، تاہم یکطرفہ فیصلے سازی کے عمل پر تشویش ظاہر کی ہے۔
فیفا انتظامیہ نے اپنے بیان میں تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی حقوق اور دیگر انتظامی امور سے متعلق اٹھائے گئے تمام اقدامات فیفا کے قائم کردہ قواعد و ضوابط کے عین مطابق تھے۔ فیفا کے مطابق پیش آنے والی چند خامیوں کا تعلق گورننس کی خلاف ورزی سے نہیں بلکہ محض طریقہ کار اور باہمی رابطہ کاری کی کمی سے تھا۔





