New York Targets Housing Crisis With Rezoning Plans in Bronx and Brooklyn

Editor News

نیویارک: میئر زوہران ممدانی اور شعبہ سٹی پلاننگ (DCP) کی ڈائریکٹر سدیہ شرمین نے نیویارک شہر میں رہائش کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے نارتھ برونکس اور بروکلین میں پراسپیکٹ پارک کے جنوبی علاقوں کے لیے نئے نیبر ہڈ پلانز (Neighborhood Plans) کا اعلان کیا ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد ٹرین اور بس روٹس کے قریب واقع ان اہم تجارتی علاقوں میں، جہاں پرانے زوننگ قوانین کی وجہ سے نئی تعمیرات پر پابندیاں تھیں، مستقل طور پر سستے گھر (Permanently Affordable Housing) تعمیر کرنا، چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینا اور عوامی مقامات کو بہتر بنانا ہے۔ برونکس میں ‘وائٹ پلینز روڈ’ اور بروکلین میں ‘کونی آئی لینڈ’ اور ‘میک ڈونلڈ ایونیو’ اس منصوبے کے اہم مراکز ہوں گے۔

سٹی پلاننگ کا محکمہ آنے والے مہینوں میں سٹی کونسل کی لینڈ یوز چیئر کیون رائیلی اور کونسل ممبران شاہانہ حنیف، ایرک ڈنووٹز، ریٹا جوزف، فرح لوئس اور سمخا فیلڈر کی شراکت داری سے بڑے پیمانے پر عوامی مشاورتی مہم شروع کرے گا تاکہ ان تجارتی کوریڈورز کو کمیونٹی کی ضرورت کے مطابق ہاؤسنگ زونز میں تبدیل کیا جا سکے۔

میئر زہران ممدانی نے اس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
“نیویارک کے باسیوں کو ان کے اپنے ہی محلوں سے باہر دھکیلا جا رہا ہے کیونکہ شہر نے دہائیوں سے وہاں نئے گھر بنانے سے انکار کیا جہاں لوگ واقعی رہنا چاہتے ہیں۔ ہم اس سوچ کو بدل رہے ہیں۔ برونکس اور بروکلین کے بڑے ٹرانزٹ کوریڈورز کے پاس اب نئے سستے گھر بنانے اور انفراسٹرکچر کو جدید کرنے کا بہترین موقع ہے، اور اس پورے عمل کی قیادت خود نیویارک کے شہری کریں گے۔”

برونکس اور بروکلین کے منصوبوں کی تفصیلات:

وائٹ پلینز روڈ پلان (برونکس): یہ منصوبہ ایدی ایونیو سے لے کر برونکس-ماؤنٹ ورنن بارڈر تک کے علاقے پر محیط ہے۔ یہاں فی الحال صرف ایک سے دو منزلہ تجارتی عمارتیں ہیں جہاں ہاؤسنگ کی شدید کمی ہے۔ جون میں عوامی “واک شاپ” سے اس کا آغاز ہوگا اور امسال زوننگ کا نیا نقشہ جاری کیا جائے گا۔

ساؤتھ آف پراسپیکٹ پلان (بروکلین): یہ کونی آئی لینڈ اور میک ڈونلڈ ایونیو کے حصوں پر محیط ہے جو کیٹن ایونیو سے ایونیو آئی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مستقبل کی ایم ٹی اے (MTA) کی ‘انٹربورو ایکسپریس’ (IBX) ٹرین سروس کے لیے علاقے کو تیار کرنا اور مکسڈ یوز (رہائشی و تجارتی) عمارتیں بنانا ہے۔ اس کے لیے ایک آن لائن سروے بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

کونسل ممبر شاہانہ حنیف اور ریٹا جوزف سمیت دیگر مقامی رہنماؤں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پرانے زوننگ قوانین کی وجہ سے یہ علاقے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے، لیکن اب ہاؤسنگ کی دستیابی سے ورکنگ کلاس خاندانوں اور تارکین وطن کو اپنے ہی محلوں میں رہنے کا قانونی اور معاشی تحفظ حاصل ہوگا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *