نیویارک (ویب ڈیسک): امریکی ریاست نیویارک میں کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے جاری کیے گئے سمر ای بی ٹی (Summer EBT) فوڈ بینیفٹس میں سے گزشتہ سال تقریباً 62 ملین ڈالر کی امدادی رقم استعمال نہ ہو سکی، جو مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد وفاقی حکومت کو واپس چلی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نیویارک اسٹیٹ نے گزشتہ سال مستحق خاندانوں کے لیے مجموعی طور پر 237 ملین ڈالر کے فوڈ بینیفٹس جاری کیے تھے، تاہم 122 دنوں کی مدت کے دوران تقریباً 26 فیصد رقم خرچ نہیں کی جا سکی۔ حکام کے مطابق یہ رقم تقریباً 5 لاکھ 18 ہزار بچوں کے لیے غذائی امداد فراہم کرنے کے لیے کافی ہو سکتی تھی۔
تعلیمی امور کے ماہر ڈیوڈ روبل (David Rubel) کے مطابق، کئی خاندان اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے کیونکہ بعض افراد کے ای بی ٹی کارڈز گم ہو گئے، جبکہ کچھ خاندانوں کو یہ معلومات ہی نہیں تھی کہ وہ پرانے کارڈ کو دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں۔
رواں سال نیویارک انتظامیہ نے ایسے خاندانوں تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں جنہوں نے گزشتہ سال اپنے فوائد استعمال نہیں کیے تھے۔ ان خاندانوں کو نئے ای بی ٹی کارڈز بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہ اس امداد سے فائدہ اٹھا سکیں۔
سمر ای بی ٹی پروگرام کیا ہے؟
سمر ای بی ٹی پروگرام کے تحت اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات کے دوران اہل بچوں کے خاندانوں کو فی بچہ 120 ڈالر کی غذائی امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ چھٹیوں کے دوران بچوں کی خوراک کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اس پروگرام کے لیے:
وہ خاندان جو پہلے ہی SNAP، عارضی مالی امداد (Temporary Assistance) یا Medicaid حاصل کر رہے ہیں، عام طور پر خودکار طور پر اہل قرار پاتے ہیں۔
چار افراد پر مشتمل وہ خاندان جن کی سالانہ آمدنی 61,050 ڈالر یا اس سے کم ہے، بھی اس امداد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق، موجودہ سال کے لیے سمر ای بی ٹی فوائد حاصل کرنے کی درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔
غذائی امداد فراہم کرنے والے ادارے سٹی ہارویسٹ (City Harvest) کے مطابق، نیویارک سٹی میں ہر چار میں سے تقریباً ایک بچہ غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث ایسے پروگرامز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اگر کسی خاندان کا ای بی ٹی کارڈ گم ہو گیا ہے تو وہ نیا کارڈ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ آن لائن سروس یا ہیلپ لائن 1-888-328-6399 پر رابطہ کر سکتا ہے۔





