نیویارک: نیویارک سٹی کے میئر کی سرکاری رہائش گاہ Gracie Mansion کے باہر ہفتے کے روز ہونے والا احتجاج اس وقت کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا جب بعض مظاہرین کی جانب سے ایک دوسرے پر مشتبہ دھماکہ خیز آلات پھینکے گئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے مجموعی طور پر چھ افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں مبینہ طور پر یہ آلات پھینکنے والے دو مرکزی ملزمان بھی شامل ہیں۔
New York City Police Department (NYPD) کی کمشنر Jessica Tisch کے مطابق احتجاجی مظاہرے کا آغاز صبح تقریباً 11 بجے ہوا۔ پہلا گروپ “اسٹاپ دی اسلامک ٹیک اوور آف نیویارک سٹی” کے عنوان سے جمع ہوا، جس کی قیادت دائیں بازو کے متنازع کارکن Jake Lang سے وابستہ افراد کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں 120 سے زائد افراد نے “رن دی نازی آؤٹ آف نیویارک سٹی” کے عنوان سے جوابی مظاہرہ کیا۔
پولیس کے مطابق دوپہر تقریباً 12:30 بجے جوابی احتجاج میں شامل 18 سالہ Emir Balat نے ایک جلتا ہوا آلہ ہجوم کی طرف پھینکا جو ایک حفاظتی رکاوٹ سے ٹکرا کر بجھ گیا۔ بعد ازاں اس نے اپنے ساتھی 19 سالہ Ibrahim Nikk سے دوسرا آلہ لیا، اسے آگ لگائی اور دوبارہ مظاہرین کی طرف بڑھا، تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں افراد کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔
نیویارک کے میئر Zohran Mamdani کے پریس سیکرٹری Joe Calvello نے ایک بیان میں اس احتجاج کو “اسلاموفوبک” اور “قابلِ مذمت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جِیک لینگ جیسے سفید فام بالادستی کے حامیوں کی جانب سے گریسی مینشن کے باہر “اسلامائزیشن کے خلاف کروسیڈ” کے نام پر اجتماع انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میئر اور خاتونِ اول محفوظ ہیں، تاہم یہ واقعہ ان خطرات کی نشاندہی کرتا ہے جن کا انہیں روزمرہ کی بنیاد پر سامنا رہتا ہے۔
پولیس کے مطابق برآمد ہونے والے مشتبہ آلات سائز میں فٹ بال سے کچھ چھوٹے تھے اور انہیں کالے ٹیپ سے لپٹے ہوئے جار کی شکل دی گئی تھی۔ ان کے اندر نٹ، بولٹ، پیچ اور ایک فیوز نصب تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ ان آلات کا معائنہ کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ واقعی دھماکہ خیز مواد پر مشتمل تھے یا نہیں۔
گرفتار کیے گئے دیگر چار افراد میں سے ایک پر مخالف مظاہرین پر پیپر اسپرے استعمال کرنے جبکہ تین افراد پر ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔





