لندن: برطانیہ کے ایئر ٹریفک کنٹرول آپریٹر ‘نیٹس’ (NATS) نے جمعے کے روز اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے نظام میں آنے والے شدید خلل اور لاکھوں مسافروں کی پریشانی کی وجہ ایک سافٹ ویئر کی خرابی (Software Defect) تھی۔
اس فنی خرابی کے نتیجے میں 2,000 سے زائد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں اور کئی دنوں تک مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا رہا۔ اس بحران کے باعث ایئرلائنز کو جہازوں، عملے کی دوبارہ منتقلی اور مسافروں کے ری فنڈز کی مد میں ملینز آف پاؤنڈز کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
‘نیٹس’ کے سی ای او مارٹن رولف (Martin Rolfe) کا کہنا تھا کہ اس شٹ ڈاؤن کا تعلق 2023 کے سابقہ حادثے سے تھا اور نہ ہی یہ کسی عسکری مداخلت کا نتیجہ تھا، جیسا کہ بعض ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کیا گیا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس واقعے کے دوران مسافروں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا: “یہ ہمارے فلائٹ ڈیٹا سسٹم کے ایک خاص حصے کا سافٹ ویئر مسئلہ تھا جسے کوڈنگ کے ایک چھوٹے سے حصّے میں ٹریس کر لیا گیا ہے۔ مسئلے کی نشاندہی کے بعد عارضی تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں جبکہ مستقل حل کی جانچ کا عمل جاری ہے۔”
رپورٹ کے مطابق یہ خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب ایک طیارے کی جانب سے شناختی کوڈ کی درخواست کے فوراً بعد ایک زیادہ ترجیحی سرگرمی کا سگنل موصول ہوا جس نے پہلی درخواست کو معطل کر دیا۔ اگر یہ ترجیحی درخواست ایک ملی سیکنڈ پہلے یا بعد میں آتی تو سسٹم معمول کے مطابق کام کرتا رہتا۔
برطانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ ہائیڈی الیگزینڈر (Heidi Alexander) نے اس خلل کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کو آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
یورپ کی سب سے بڑی ایئرلائن ‘رائین ایئر’ (Ryanair) نے 2023 کے بحران کے بعد سے NATS کے چیف ایگزیکٹو مارٹن رولف سے مسلسل استعفے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ اگست 2023 میں بھی این اے ٹی ایس کا سسٹم خراب ہوا تھا جس سے ایئرلائنز کو 100 ملین پاؤنڈز (136 ملین ڈالرز) کا نقصان ہوا تھا، جبکہ جولائی 2025 میں بھی ایک چھوٹے فنی مسئلے سے 150 پروازیں منسوخ ہوئی تھیں۔





