کراچی (ویب ڈیسک): کراچی میں جوان تاجر میر رضا کے پراسرار قتل کے معاملے میں مقتول کی بہن کا ایک نیا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے پولیس سیکیورٹی کی ناگہانی واپسی اور مشکوک گاڑیوں کی جانب سے خاندان کا پیچھا کیے جانے جیسے سنگین انکشافات کیے ہیں۔
کیس کی مختلف زاویوں سے تحقیقات تاحال جاری ہیں، جبکہ تفتیشی ٹیم نے طبی رپورٹس کی اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے پولیس سرجن سے بریفنگ حاصل کی ہے۔
مقتول کی بہن کے مطابق اہلخانہ کی درخواست پر ایک پولیس اہلکار کی سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی جسے بغیر اطلاع اچانک واپس لے لیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دو مشکوک گاڑیاں مسلسل ان کے والد اور خاندان کا پیچھا کر رہی ہیں، جس پر تشویش کے بعد پولیس موبائل کو طلب کیا گیا۔
تفتیش کے دوران پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او (MLO) ڈاکٹر اسامہ شیخ سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان کا موبائل فون فارنزک کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
طبی اصطلاحات کی الجھن کے باعث تفتیشی ٹیم نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید سے مدد لی، جنہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹس اور متعلقہ سوالات پر تفتیشی ٹیم کو بریفنگ دی۔
ڈی آئی جی عامر فاروقی نے مقتول کے آخری لمحات کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنے پر غور کا اشارہ دیا ہے، جبکہ اہلخانہ نے فوٹیج پہلے شیئر نہ کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر رضا کے کاروباری شراکت دار (بزنس پارٹنر) کو بھی شاملِ تفتیش کیے جانے کا امکان ہے۔




