لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

میٹااوراینتھروپک کےدرمیان 10 ارب ڈالرزکامیگا اےآئی ڈیل متوقع

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

سلیکان ویلی: فیس بک کی بنیادی کمپنی میٹا (Meta) اور مشہورِ زمانہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کے درمیان ایک بہت بڑے کاروباری اور تکنیکی معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، میٹا اپنے ڈیٹا سینٹرز سے اینتھروپک کو اے آئی کمپیوٹنگ پاور لیز (کرائے) پر دینے پر غور کر رہی ہے، جس کی مالیت دو سالوں میں 10 ارب امریکی ڈالرز (اربوں پاکستانی روپے) تک پہنچ سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کلاڈ (Claude) نامی مشہور اے آئی ماڈل بنانے والی کمپنی اینتھروپک نے اس ڈیل کی تجویز پیش کی تھی۔ اس معاہدے کے تحت اینتھروپک کی جانب سے میٹا کو ماہانہ بنیادوں پر ادائیگیاں کی جائیں گی، جبکہ دونوں کمپنیوں کے پاس وقت سے پہلے اس معاہدے سے باہر نکلنے کا آپشن بھی موجود ہوگا۔ تاہم، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کسی حتمی معاہدے میں تبدیل نہ ہو سکیں۔
اگر یہ ڈیل کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ میٹا کے لیے اپنے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفراسٹرکچر پر کیے گئے اربوں ڈالرز کے اخراجات کو منافع میں بدلنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگی۔ میٹا نے اپنے اے آئی ماڈلز کے لیے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر کلاؤڈ اور جی پی یوز (GPUs) کا نیٹ ورک بنایا ہے۔ بیرونی کمپنیوں کو یہ صلاحیت کرائے پر دے کر میٹا باقاعدہ طور پراے آئی کلاؤڈ مارکیٹ میں داخل ہو جائے گی، جہاں اس وقت اینوڈیا چپس اور ڈیٹا سینٹرز کی مانگ عروج پر ہے۔ بلومبرگ کے مطابق، میٹا خاموشی سے اپنا ایک کلاؤڈ بزنس تیار کر رہی ہے تاکہ اضافی کمپیوٹنگ پاور کو فروخت کیا جا سکے۔

اینتھروپک کو اپنے ایڈوانسڈ اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ اور انہیں چلانے کے لیے کھربوں ڈیٹا پروسیس کرنے کی صلاحیت (Compute) درکار ہے۔ اینتھروپک نے حال ہی میں اپنا نیا ماڈل کلاڈ فیبل 5 (Claude Fable 5) متعارف کرایا ہے، جبکہ اس کی حریف اوپن اے آئی (OpenAI) بھی نئے ماڈلز لا رہی ہے۔ اس شدید مقابلے میں بنے رہنے کے لیے اینتھروپک پہلے ہی سپیس ایکس (SpaceX) کے ساتھ 1.25 ارب ڈالر ماہانہ کا ایک بڑا کمپیوٹ معاہدہ کر چکی ہے۔ دوسری طرف گوگل بھی سپیس ایکس کے ساتھ 920 ملین ڈالر ماہانہ کا معاہدہ کر کے 1 لاکھ 10 ہزار اینوڈیا چپس تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔

موجودہ دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں وہی کمپنی راج کر سکتی ہے جس کے پاس سب سے زیادہ کمپیوٹر چپس، ڈیٹا سینٹرز اور بجلی کی سپلائی موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب حریف کمپنیاں بھی ایک دوسرے کے انفراسٹرکچر کو استعمال کرنے کے لیے ہاتھ ملا رہی ہیں۔ میٹا اگرچہ اپنے اے آئی سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے اور اوپن اے آئی جیسی کمپنیوں سے آگے نکلنے کی جدوجہد کر رہی ہے، لیکن اس کمپیوٹنگ پاور کو بیچ کر وہ ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایک بالکل نیا اور بڑا شفٹ لانے جا رہی ہے۔