لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

لاہورسانحہ:امریکاسےآئےخاندان کی موت کی ابتدائی رپورٹ سامنےآگئی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

لاہور: لاہور کے پوش علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں امریکا سے پاکستان آئی خاتون اور ان کے 3 بچوں کی پراسرار ہلاکت کے ہولناک واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔ رپورٹ میں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شوہر کے بیانات کی روشنی میں واقعے کے لمحہ بہ لمحہ کی تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ناصر ڈوگر اپنی فیملی سمیت یکم جولائی کو امریکا سے پاکستان پہنچا تھا۔ خاندان کے تمام پانچوں افراد امریکی شہریت رکھتے تھے اور ان کی آمد سے قبل ناصر کے بھائی نے ویلنشیا ٹاؤن میں یہ گھر کرائے پر حاصل کیا تھا۔

واقعے کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلاٹ (CCTV اور شوہر کے مطابق)
شام 6:10 بجے: ناصر ڈوگر گھر کا سامان خریدنے بازار گیا اور تقریباً ایک گھنٹہ 47 منٹ بعد واپس لوٹا، جہاں میاں بیوی نے مل کر سامان اندر منتقل کیا۔

ناصر کے مطابق اندر آنے پر اس کی بیوی علینا نے اسے آئس کریم کھانے کی پیشکش کی، لیکن اس نے پیاس کی وجہ سے معذرت کر لی۔ بچوں کے بارے میں پوچھنے پر علینا نے بتایا کہ وہ فلم دیکھنے گئے ہیں۔

رات 8:04 بجے: ہمسایوں نے گھر آ کر بچوں کا پوچھا تو ناصر نے ان کی غیر موجودگی کا بتایا۔

رات 8:05 بجے: ناصر نے اپنے بھائی ڈی ایس پی شیر علی کو فون کر کے صورتحال سے آگاہ کیا۔

رات 8:10 بجے (لاشوں کی برآمدگی): ہمسایہ اور سامنے والے لانڈری والے کی موجودگی میں جب گھر کے واشنگ ایریا کی تلاشی لی گئی تو وہاں چادر میں لپٹی بچوں کی لاشیں ملیں۔

رات 8:15 تا 8:28 بجے (خاتون کی موت): بچوں کی لاشیں سامنے آتے ہی خاتون علینا نے شوہر پر الزام لگایا اور پورچ میں گر گئی۔ اسے فوری طور پر قریب ہی واقع کلینک منتقل کیا گیا جہاں رات 8:28 بجے ڈاکٹروں نے اس کی بھی موت کی تصدیق کر دی۔

موقع سے ملنے والے شواہد اور پولیس کا موقف
تفتیشی ٹیموں کو گھر کے کچرے دان سے کچھ کیپسول کی باقیات ملی ہیں، جبکہ واشنگ ایریا اور کمرے کے دروازے کو گدے کی مدد سے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس چوکی ہلوکی کو رات 8:20 پر اطلاع ملی اور چوکی انچارج 8:25 پر جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ناصر ڈوگر کے بیانات کے میچ ہونے پر فی الحال اسے رہا کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی اصل وجوہات، مبینہ زہر خورانی یا خودکشی کے حوالے سے حتمی نتیجہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی اخذ کیا جائے گا۔