لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

فیفا ورلڈ کپ فائنل کی تاریخ کا پہلا ہاف ٹائم شو، جسٹن بیبر، شکیرا اور بی ٹی ایس میٹ لائف اسٹیڈیم میں پرفارم کریں گے

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیو جرسی (MetLife Stadium New Jersey): فٹبال کی تاریخ میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ فائنل (FIFA World Cup final) کے دوران سیمی فائنل یا فائنل میچز میں امریکی ‘سپر بول’ کی طرز پر ایک شاندار ‘ہاف ٹائم شو’ (Halftime show) کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں کینیڈین میگاسٹار جسٹن بیبر، پاپ کوئین مڈونا، شکیرا اور کے-پاپ سنسنی ‘بی ٹی ایس’ (BTS) یکجا ہو کر پرفارم کریں گے۔

یہ تاریخی شو 19 جولائی 2026 کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والے ورلڈ کپ فائنل کے دوران ہوگا، جس کی کیوریشن ‘کولڈ پلے’ (Coldplay) کے فرنٹ مین کرس مارٹن (Chris Martin) کر رہے ہیں۔

فٹبال کے روایتی قوانین (Laws of the Game) کے تحت میچ کا ہاف ٹائم 15 منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ فیفا نے تصدیق کی ہے کہ یہ میوزیکل پرفارمنس تقریباً 11 منٹ کی ہوگی، تاہم اسٹیج کی تیاری اور اسے ہٹانے کے لیے اضافی وقت درکار ہوگا، جس سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا ہاف ٹائم کا وقت بڑھایا جائے گا یا نہیں۔

اس سے قبل یہ افواہیں تھیں کہ یہ شو 25 منٹ طویل ہو سکتا ہے، لیکن فیفا کے صدر جانی انفینٹینو (Gianni Infantino) نے ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا سب سے بڑا اسٹیج” قرار دیا ہے، جسے دنیا بھر میں اربوں افراد لائیو دیکھیں گے۔

یہ میگا شو محض تفریح نہیں بلکہ ایک عظیم مقصد کے لیے ہے۔ شو میں مشہور کارٹون کردار ‘سیسمی اسٹریٹ’ (Sesame Street) اور ‘دی مپیٹس’ بھی شامل ہوں گے، جو فیفا کے گلوبل سٹیزن ایجوکیشن فنڈ (Global Citizen Education Fund) کے لیے 100 ملین ڈالر جمع کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔ اس فنڈ کا مقصد دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔

اس شو میں نائیجیرین سنگر برنا بوائے (Burna Boy) اور وینزویلا کے مشہور کنڈکٹر گوستاو دودامیل بھی اپنی فن کا جادو جگائیں گے۔ ایونٹ کے آرگنائزر ‘گلوبل سٹیزن’ کے سی ای او ہیو ایونز نے کہا کہ ‘لائیو ایڈ’ (Live Aid) کے بعد یہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی براڈکاسٹ میوزک پرفارمنس ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ فیفا نے گزشتہ سال کلب ورلڈ کپ فائنل کے دوران اس ہاف ٹائم شو کا ٹرائل کیا تھا، جس کی وجہ سے ہاف ٹائم 24 منٹ تک طویل ہو گیا تھا اور کھلاڑیوں کی فٹنس اور کارکردگی پر اثر پڑنے کی وجہ سے ناقدین نے اس پر سخت تنقید کی تھی۔