لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ایران نےآبنائےہرمزکودوبارہ کھولنےسےمتعلق تمام خبروں اوردعووں کومستردکردیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

تہران (ویب ڈیسک): ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کی منصوبہ بندی پر رضامندی یا کسی ممکنہ معاہدے سے متعلق غیر ملکی میڈیا کے دعووں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ (Fars News Agency) کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی موجودہ اسٹریٹجک پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور اس حوالے سے میڈیا میں گردش کرنے والی تمام اطلاعات اور خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض غیر ملکی اور ایران مخالف ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ایک خاص منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم، ایرانی ذرائع نے ان کیٹیگریز اور رپورٹس کو حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے یکسر رد کر دیا۔

ایرانی ذرائع نے دوٹوک الفاظ میں کہا: ”آبنائے ہرمز جیسے انتہائی حساس اور اہم بحری راستے کے حوالے سے ایران کا مؤقف پہلے کی طرح قائم و دائم ہے۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی نئی پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی پالیسی میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔“

ایرانی حکام کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ذرائع ابلاغ پر اس نوعیت کی افواہیں اور خبریں پھیلانے کا مقصد ایران کی خطے سے متعلق واضح پالیسی کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر مغالطے اور غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ یہ ایرانی وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملے کو مؤخر کرنے کی شرط کے طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبات سامنے آ رہے تھے۔

عالمی سطح پر اس وقت آبنائے ہرمز کی صورتحال گہری تشویش اور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دنیا کے کُل برآمدی تیل اور گیس کی ایک بہت بڑی ترسیل اسی اسٹریٹجک اور تنگ بحری گزرگاہ کے ذریعے انجام پاتی ہے۔