سانفرانسسکو (ویب ڈیسک): دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت (AI) کمپنی ہگنگ فیس (Hugging Face) نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے سسٹم پر ہونے والا حالیہ سائبر حملہ کسی انسان نے نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک ‘خودکار اور خودمختار اے آئی’ (Autonomous AI) نے انجام دیا ہے۔ اسے سائبر سیکیورٹی کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ہگنگ فیس کے مطابق اگرچہ ہیکرز پہلے بھی سیکیورٹی خامیاں (Vulnerabilities) تلاش کرنے یا حملوں کو خودکار بنانے کے لیے AI کا سہارا لیتے رہے ہیں، لیکن اس بار پورا حملہ ابتدا سے لے کر اختتام تک ایک خودمختار AI سسٹم نے ازخود ڈیزائن اور بلا شرکتِ غیرے انجام دیا۔
کمپنی کے بیان کے مطابق، حملہ آور AI نے ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم پر ایک نیا ڈیٹا سیٹ (Dataset) اپ لوڈ کیا۔ اس ڈیٹا سیٹ کے ذریعے سسٹم کی ایک مخفی سیکیورٹی خامی کا فائدہ اٹھایا گیا اور کمپنی کے سرورز پر اپنا کوڈ چلانے (Code Execution) میں کامیابی حاصل کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہگنگ فیس نے اس پیچیدہ حملے کا جائزہ لینے اور بنیادی وجہ معلوم کرنے کے لیے اپنے ہی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز کا استعمال کیا۔ کمپنی نے ایک جدید لارج لینگوئج ماڈل (LLM) کی مدد سے حملے کا باریک بینی سے تجزیہ کیا، جس نے سیکیورٹی میں موجود اس خامی کی درست نشاندہی کی اور دفاعی نظام کو مضبوط بنایا۔
واضح رہے کہ ہگنگ فیس ایک عالمی شہرت یافتہ پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے ڈویلپرز اور محققین اے آئی ماڈلز تیار کرنے، ہوسٹ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کا کام کرتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مستقبل میں خودکار AI ایجنٹس (AI Agents) سائبر سیکیورٹی کے لیے سنگین اور نئے چیلنجز پیدا کرنے والے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی سیکیورٹی سسٹمز اب کافی نہیں رہیں گے اور AI سے مبنی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید دفاعی سسٹمز کا ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔





