البانی، نیویارک: گورنر کیتھی ہوچل کی جانب سے نیویارک کے ریاستی بجٹ کی منظوری کے بعد اب یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹس ڈیوٹی کے دوران ماسک نہیں پہن سکیں گے۔
یہ اقدام اس نئے قانون کا حصہ ہے جسے MELT ایکٹ (Mandating End of Lawless Tactics) کہا جا رہا ہے، جس کا مقصد وفاقی ایجنٹس کی مبینہ جارحانہ کارروائیوں کو روکنا اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔
اسٹیٹ بجٹ میں امیگریشن سے متعلق دیگر اہم تحفظات بھی شامل کیے گئے ہیں ان میں
مقامی پولیس کو وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے طور پر کام کرنے یا ریاستی وسائل استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
آئی سی ای (ICE) کے ایجنٹس اب اسکولوں، لائبریریوں، اسپتالوں اور پولنگ اسٹیشنز جیسے حساس مقامات پر جوڈیشل وارنٹ کے بغیر داخل نہیں ہو سکیں گے۔
شہریوں کو آئینی خلاف ورزی پر وفاقی اور ریاستی حکام کے خلاف مقدمہ کرنے کا حق دیا گیا ہے۔
بجٹ میں تارکینِ وطن کی حیثیت سے قطع نظر مفت عوامی تعلیم کے حق کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
اسمبلی ممبر ٹونی سیمون کا کہنا ہے کہ “ماسک پہن کر کارروائی کرنے والے ایجنٹس معاشرے میں خوف پھیلا رہے ہیں، یہ غیر امریکی طرزِ عمل ہے۔” دوسری جانب، بارڈر زار ٹام ہومن نے خبردار کیا ہے کہ جہاں سینکچری قوانین (Sanctuary Laws) نافذ ہوں گے، وہاں ICE کی کارروائیاں مزید تیز کر دی جائیں گی۔





