امریکی فوج کی جانب سے ایران پر کیے گئے تازہ فضائی حملوں کے بعد جمعرات کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں (Oil prices) میں 1 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ان حملوں کے باعث جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی امیدوں اور عالمی تیل کی سپلائی کے اہم ترین راستے ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کے دوبارہ مکمل کھلنے کی توقعات کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
خام تیل کے عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ (Brent crude futures) کی قیمت 86 سینٹس یا 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 78.88 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI crude futures) کی قیمت 85 سینٹس یا 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 74.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد بھی دونوں بینچ مارکس گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔
آئی این جی (ING) کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ: “ایران پر امریکی حملوں نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے، اور اس تازہ کشیدگی نے نازک سیز فائر (Fragile ceasefire) پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔”
امریکی سینٹرل کمانڈ (US Central Command) کے مطابق، امریکی افواج نے ایرانی ساحل کے ساتھ تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان اہداف میں:
ایئر ڈیفنس سسٹم (Air defense systems)
کوسٹل سرویلنس اثاثے (Coastal surveillance assets)
میزائل اور ڈرون اسٹوریج سائٹس (Missile and drone storage sites)
بحریہ کی صلاحیتیں اور ملٹری لاجسٹکس انفراسٹرکچر
یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ عارضی امن معاہدے کو “ختم” قرار دیا تھا۔ دوسری جانب، ایران نے بھی بدھ کے روز بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
واضح رہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی کل تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ میں ایران نے اسی آبی راستے کو اپنے سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔
ڈی بی ایس بینک (DBS Bank) کے ماہرین کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان جیو پولیٹیکل خطرات (Geopolitical risks) برقرار ہیں، جس کے باعث آنے والے کئی مہینوں تک تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔





