تہران (ویب ڈیسک): ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف (Mohammad Bagher Ghalibaf) نے امریکہ کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں اور عالمی دباؤ کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اب تمام فریقوں کو اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بصورتِ دیگر انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
یہ اہم ترین بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری کیا گیا، جو ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں سکیورٹی کی صورتحال اور حالیہ امریکی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی و سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی معاہدے صرف اسی صورت میں کامیاب اور پائیدار ہو سکتے ہیں جب تمام متعلقہ فریق اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے پوری کریں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کسی بھی عالمی طاقت یا فریق کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی اب ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔
ایرانی رہنما نے اپنے بیان میں خاص طور پر اس جملے کو نمایاں کیا کہ:”اسلامی جمہوریہ ایران اب ضروری انتظامات کرے گا۔”
ان کا کہنا تھا کہ خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے والے یکطرفہ اقدامات کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور تمام ممالک کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پاس رکھنا ہوگا۔
سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق، قالیباف کے یہ تازہ اور جارحانہ ریمارکس اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایران مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں برابری اور باہمی ذمہ داریوں پر مبنی سخت موقف اختیار کرے گا۔
تہران اب واشنگٹن یا کسی بھی مغربی طاقت کے یکطرفہ سیاسی و معاشی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے موڈ میں نہیں ہے، بلکہ خطے کی بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے دفاع اور مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی حکمتِ عملی تیار کر چکا ہے۔





