لاس اینجلس / میامی: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل مرحلے میں میزبان ممالک امریکا اور میکسیکو کی حیران کن شکست جہاں ان کے مداحوں کے لیے مایوس کن ثابت ہوئی ہے، وہیں سستے ٹکٹوں کی تلاش میں رہنے والے دیگر فٹبال فینز کے لیے ایک بڑی خوشخبری بن کر سامنے آئی ہے۔
ٹکٹوں کی خرید و فروخت کے سیکنڈری آن لائن پلیٹ فارم ‘TickPick’ کے مطابق، ٹورنامنٹ سے ان دو بڑی ٹیموں کے باہر ہوتے ہی کوارٹر فائنل میچوں کے ٹکٹوں کی قیمتیں یکسر گر گئی ہیں۔
اسپین بمقابلہ بیلجیم (کوارٹر فائنل): لاس اینجلس میں کھیلے جانے والے اس میچ کے لیے ٹکٹوں کی قیمتوں میں 65 فیصد تک کی بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ اگر پیر کے روز امریکا میچ نہ ہارتا تو وہ اس میچ کا حصہ ہوتا۔ امریکی شکست سے قبل یہاں سب سے سستا ٹکٹ 3,200 ڈالر (تقریباً 9 لاکھ پاکستانی روپے) کا تھا، جو اب گراوٹ کے بعد صرف 1,100 ڈالر تک آ گیا ہے۔
انگلینڈ بمقابلہ کواٹر فائنل حریف (میامی): اتوار کو انگلینڈ کے ہاتھوں میکسیکو کی شکست کے بعد میامی میں ہفتے کو ہونے والے میچ کے ٹکٹ 45 فیصد سستے ہو گئے ہیں۔ جو سستا ترین ٹکٹ پہلے 4,000 ڈالر کا تھا، وہ اب 2,000 ڈالر میں دستیاب ہے۔
TickPick کے شریک چیف ایگزیکٹو بریٹ گولڈ برگ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں کوارٹر فائنل کے ٹکٹوں کی قیمتیں اس توقع پر رکھی گئی تھیں کہ امریکا اور میکسیکو اگلے مرحلے میں پہنچیں گے، لیکن ‘راؤنڈ آف 16’ میں دونوں کی لگاتار شکست نے ڈیمانڈ اچانک ختم کر دی۔ کینیڈا بھی گزشتہ ہفتے باہر ہو چکا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ٹورنامنٹ کے تینوں میزبان ممالک اب ریس سے باہر ہیں۔
کاروباری طبقہ شدید متاثر، لیکن بیئر کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ
میزبان ٹیموں کے باہر ہونے سے امریکا کی مشہور اسپورٹس بار چین ‘Tom’s Watch Bar’ کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ کمپنی کے کو-سی ای او بروکس شادین کا کہنا ہے کہ امریکا اور خصوصاً میکسیکو کے میچوں والے دن ان کا بزنس عروج پر ہوتا تھا، کیونکہ میکسیکن فینز پیسے کی پرواہ کیے بغیر دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔ اب ٹورنامنٹ کے باقی دنوں میں ان کے بزنس میں 50 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ‘بیئر انسٹی ٹیوٹ’ کے اعداد و شمار کے مطابق، ورلڈ کپ کے باعث گزشتہ چار ہفتوں میں بارز اور ریسٹورنٹس پر بیئر کی فروخت میں مجموعی طور پر 6.4 فیصد جبکہ میزبان شہروں میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
میساچوسٹس (بوسٹن): گزشتہ ماہ اسکاٹ لینڈ کے فینز نے بوسٹن کے بارز خالی کر دیے تھے، جس کے باعث یہاں بیئر کی سیلز میں سب سے زیادہ 23 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
نیویارک اور کیلیفورنیا: نیویارک کے میٹروپولیٹن علاقے میں 19 فیصد اور کیلیفورنیا میں 14 فیصد سیلز بڑھی ہیں۔
بیئر انسٹی ٹیوٹ کے چیف اکانومسٹ اینڈریو ہیریٹیج کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ٹیم کے باہر ہونے سے جوش و خروش کو دھچکا لگا ہے، لیکن ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ کسی ایک ٹیم سے بہت بڑا ہے اور فائنل تک بزنس کا یہ مومینٹم برقرار رہے گا۔





