لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ورلڈکپ کےبعدفیفا ایک اوربڑےمالیاتی اسکینڈل کی زدمیں:امریکہ کے میزبان شہروں کاکروڑوں ڈالرکےواجبات کی عدم ادائیگی کادعویٰ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / زیورخ (ویب ڈیسک): شمالی امریکہ میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کے بعد بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن (FIFA) ایک اور شدید مالیاتی تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ ایک برطانوی کھیل کے جریدے (دی ایتھلیٹک) کے مطابق امریکہ کے متعدد میزبان شہروں نے فیفا سے وعدہ شدہ کروڑوں ڈالر کی رقم فراہم نہ کرنے پر شدید احتجاج اور مطالبات شروع کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ فیفا انتظامیہ پہلے ہی صدر جیانی انفینٹینو (Gianni Infantino) کی تنازعہ شکار پالیسیوں اور پرائیویٹ انویسٹمنٹ منصوبے کی منسوخی کے بعد اندرونی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق: 2025 کا کلب ورلڈ کپ: فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے 2025 کے کلب ورلڈ کپ کے دوران امریکہ کے 11 میزبان شہروں کو فٹبال گراؤنڈز کی تعمیر اور سماجی منصوبوں کے لیے 10 لاکھ ڈالر (1 Million USD) فی شہر دینے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد جب ورلڈ کپ کے لیے امریکی شہروں سے میزبانی کی درخواستیں لی گئیں تو فیفا انتظامیہ کے سینئر حکام نے زبانی طور پر ان شہروں سے بھی یہی رقم (“لیگیسی کنٹری بیوشن”) دینے کا وعدہ کیا تھا۔

ااگرچہ فیفا نے کبھی اس کا عوامی سطح پر اعلان نہیں کیا، تاہم میزبان شہروں کا مؤقف ہے کہ زبانی وعدے کے باوجود تاحال یہ رقم انہیں منتقل نہیں کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے میچز، ٹکٹوں کی فروخت، سپانسرشپ، میڈیا رائٹس اور پارکینگ سے حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی خطیر آمدنی کا بڑا حصہ براہِ راست فیفا کے کھاتے میں گیا ہے۔

دوسری جانب، سیکورٹی، ٹرانسپورٹ، ایئرپورٹ اور فین زونز کے تمام تر بھاری اخراجات خود میزبان شہروں کو برداشت کرنے پڑے تھے۔ امریکہ میں جن 11 شہروں کو شدید مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے ان میں سیئٹل، سان فرانسسکو، لاس اینجلس، ڈیلاس، ہیوسٹن، کینساس سٹی، اٹلانٹا، فلاڈیلفیا، نیویارک/نیو جرسی، میامی اور بوسٹن شامل ہیں۔

فیفا کے ترجمان سے اس حوالے سے موقف مانگا گیا ہے، تاہم ابھی تک کوئی رسمی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔