لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

جیانی انفینٹینو کے خلاف فیفا کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

زیورخ (ویب ڈیسک): بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن (FIFA) کی صدارت اور بااختیار ادارے میں صدر جیانی انفینٹینو (Gianni Infantino) کے خلاف بغاوت اور اختلافات کی لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ فیفا کے سیکریٹری جنرل اور انفینٹینو کے سیکنڈ ان کمانڈ میٹیاس گرافسٹروم (Mattias Grafström) نے ورلڈ کپ کی ناکام پرائیویٹ انویسٹمنٹ اسکیم کو “افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعات کا سلسلہ” قرار دے دیا ہے۔

اس سے قبل فیفا کے سینئر ایڈوائزر کارلوس کورڈیرو استعفیٰ دے چکے ہیں جبکہ چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) کیون لیمور نے صدر انفینٹینو پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے فیفا انتظامیہ کو “دھوکے” میں رکھا۔

فیفا کے چیف آف گلوبل ڈیولپمنٹ اور آرسنل کے سابق شہرہ آفاق مینیجر ارسین وینگر (Arsène Wenger) نے بھی اس بحران پر اپنی مسلسل خاموشی توڑتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔

ارسین وینگر نے کہا: ”مجھے اس حکمتِ عملی یا منصوبے کا پہلے سے کوئی علم نہیں تھا اور میں نے میڈیا رپورٹس کے ذریعے اس بارے میں جانا۔ اس منصوبے کو منسوخ اور واپس لینے کا فیصلہ بالکل ضروری اور بلا چون و چرا درست تھا، کیونکہ میں ایک خود مختار اور شفاف فیفا پر یقین رکھتا ہوں جو دیانت داری کے ساتھ فٹبال کی خدمت کرے۔“

دی گارڈین کے مطابق، فیفا کے سیکریٹری جنرل میٹیاس گرافسٹروم نے فیفا اسٹاف کو بھیجے گئے ایک ای میل میں ادارے کو درپیش سخت حالات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ ”اگرچہ ہم حالیہ افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعات پر سخت مایوس ہیں، لیکن ان تلخ حالات کو نظر انداز کر کے ہمیں اپنے بنیادی مقصد پر توجہ دینی چاہیے۔ افراد، غیر مستحکم لمحات اور بدقسمت واقعات آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن فیفا کا ادارہ، اس کا مشن اور عالمی فٹبال کے لیے اس کی ذمہ داریاں ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔“

انہوں نے ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں موجودہ سیاسی کشمکش اور ادارے میں جاری بحران کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے گا۔

فیفا کے سیکنڈ ان کمانڈ گرافسٹروم اور ارسین وینگر جیسے بااثر ناموں کی جانب سے اس منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد جیانی انفینٹینو اپنے ہی ادارے کے اندر شدید تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب، یورپی فٹبال فیڈریشنز کی بڑی تعداد نے جیانی انفینٹینو کی آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے حمایت باضابطہ طور پر واپس لے لی ہے، جس سے ان کا صدارتی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔